آزادی مارچ کا کرشمہ ۔احتشام الحق شامی


جن دفاعی تجزیہ نگاروں کا ٹی وی ٹاک شوز میں اس بات پر بے حد اصرار رہتا تھا کہ اپوزیشن راہنماء بلخصوص نواز شریف،آصف زرداری،بلاول بھٹو، مریم نواز اور دیگر کھل کے ان قوتوں کا نام کیوں نہیں لیتے جنہیں وہ خلائی مخلوق،فرشتے اور جن بھوت وغیرہ کہ کر مخاطب کرتے ہیں اور جن کے بارے میں اِن سیاسی راہنماوں کا موقف ہے کہ یہ قوتیں اس ملک میں سول بالادستی کے قیام میں رکاوٹیں ہیں ، آذادی مارچ کے دھرنے کی برکت سے کم از کم ان دفاعی تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی مشکل اور پریشانی مولانا فضل الرحمان نے بخوبی دور کر دی ہے ۔ ناصرف ان تجزیہ نگاروں بلکہ انہیں ٹی وی پراگراموں میں بٹھانے والوں پر بھی دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ اگر ملک کے سیاستدان اور دیگر سویلین ان کا کسی بھی حوالے سے احترام کر رہے ہیں تو اس میں کسی قسم کا ڈر یا خوف پوشیدہ نہیں ہے ۔
آج کل نہ صرف ٹی وی ٹاک شوز میں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر آذادی مارچ سے کنٹینر سے مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی،مفتی کفایت اللہ اور دیگر رہنماء خلائی مخلوق کے بجائے نہ صرف اداروں (فوج،نیب ،الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ) کا نام لے لے کر انہیں مخاظب کر رہے ہیں اور سب سے بڑے ادارے یعنی فوج کے ترجمان تواتر سے انہیں جواب بھی دے رہے ہیں ،گویا اس سے پہلے جو باتیں اشاروں اور کنائیوں میں ہوتی تھیں اب دو بدو ہونے لگی ہیں ۔ کل تو محمود خان اچکزئی نے کنٹینر سے یہاں تک کہ ڈالا کہ’’ حالیہ انتخابات میں دھاندلی پاک فوج کے اداروں نے کی اور یہ بات جج ،جرنیل بھی جانتے ہیں ‘‘ ۔ ( “ترجمان” کی جانب سے ابھی اس کا جواب آنا باقی ہے)
آزادی مارچ کا ایک کرشمہ یہ بھی ہوا کہ جو باتیں نواز شریف اور آصف زرداری مروت کے مارے نہیں کہتے تھے مولانا اور ان کے ساتھیوں نے کھل کر ان کا اظہار بھی کر دیا ۔ یہ ساری صورتِ حال یہ بات واضح کرتی ہے کہ آئندہ اس ملک میں سول سپرمیسی یا جمہوری اداروں کی بالادستی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں ہو گا اور غیر جمہوری قوتوں کو میدانِ عمل میں آ کر واشگاف الفاظ میں للکارا جائے گا ۔ گو کہ مولانا فضل الرحمان بھی ماضی میں دیگر سیاسی لیڈران کی طرح در پردہ غیر جمہوری قوتوں کی کسی نہ کسی مجبوری یا حکمت کے پیشِ نظر پشت پناہی کرتے رہے ہیں لیکن گزرتے وقت کے ساتھ انہوں نے بھی دیگر سیاستدانوں کی طرح بھانپ لیا کہ مستقبل کی حقیقی اور عوامی سیاست کا دارومدار صرف “ووٹ کو عزت دو” کے بیانئے کے نعرے پر ہی ممکن ہو سکے گا،یہی وجہ ہے کہ آج آذادی مارچ کے کنٹینر سے نواز شریف کی جانب سے لگائے گئے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو بلند کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب غیر جمہوری قوتوں نے بھی بل آخر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ اب وقت آ گیا ہے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور سول بالادستی سے ہی ان کی بھی مضبوطی اور بقاء ہے،شائد وہ قوتیں اب جان گئی ہیں کہ مضبوط معیشت کا راز ملک میں قائم مضبوط جمہوری نظام میں پوشیدہ ہے اور سیاسی اور جمہوری نظام میں عدم مداخلت میں ان کی عزت اور احترام پوشیدہ ہے ۔
مولانا کے مطالبے یا سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم ان کے مارچ اور دھرنے نے قوم پر یہ احسان تو کر دیا ہے کہ غیر جمہوری قوتیں کھل کر یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اورساتھ ہی انہوں نے یہ بھی محسوس کر لیا کہ اب اس ملک کے عوام پارلیمنٹ کی بالا دستی اور سول سپر میسی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے کسی اقدام یا عمل کو ہرگز نہیں سراہیں گے بلکہ شدید مزاحمت کریں گے ۔
اگر یہ ملک سویلین بالادستی کے لیئے اور جمہوریت کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے تو عوام الناس بشمول لبرل طبقہ کو آذادی مارچ دھرنے میں جا کرمولانا فضل الرحمان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے اور ان کے ہاتھوں کو چومنا چاہیئے ۔ یہ بات مولانا بھی جانتے ہیں کہ اگر ان کے تمام کے تمام مطالبات من و عن بھی تسلیم کر لیئے جائیں تو بھی وہ اس ملک کے وزیرِ اعظم نہیں بن سکیں گے ،اس کے باوجود اگر وہ عوام کے ووٹ کی عزت اور حرمت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان کی اور ان کے اندازِ سیاست کی مخالفت کرنے والے نام نہاد جمہوریوں اور موم بتی گروپ کو مولانا کے بارے میں اپنی قائم کی گئی رائے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔( احتشام الحق شامی )

Facebook Comments