این آر او نہیں دوں گا اور نواز شریف کی بیرون ملک روانگی ۔ نعیم اختر


چنتخب این آر او نہیں دوں گا کے گانے سناتا رہا ادھر نواز شریف بیرون ملک علاج کے لیے روانہ ہو جاٸیں شنید ہےاصل حکمرانوں کے مابین تمام امور طے پا چکے ہیں اور اب ای سی ایل سے نام نکلوانے سمیت بہت سی دوسری باتوں پر رسمی کاررواٸی باقی ہے۔نواز شریف کے معاملے میں اتنی عجلت میں فیصلہ سازی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مقتدر حلقوں نے نواز شریف کی بیماری کا بعد از خرابی بسیار احساس کر لیا ہے کہ اگر نواز شریف کو کچھ ہو گیا تو الزام مقتدر حلقوں کے سر آٸے گا۔
نواز شریف کی والدہ نے نواز کو باہر جانے پر آمادہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔آہنی اعصاب کے مالک نواز شریف نے تو ووٹ کی عزت کی بحالی اور جمہوریت کی بازیابی کی خاطر پنجاب سے اٹھنے والے تابوت کا عزم صمیم کر لیا تھا مگر جب اصل حکمرانوں کو یہ تابوت ایک ڈراٶنا بھوت بنتا دکھاٸی دیا تو انہوں نے نواز شریف پر جاری ظلم و ستم سے ہاتھ کھینچنے کا فیصلہ کر لیا۔کہاں انتقامی سیاست کا وہ اسلوب کہ جب نواز شریف کے کمرے سے اے سی ہٹا کر گھر کے کھانے پر پابندی لگا دی گٸی تھی اور کہاں درد دل کی یہ کیفیت کہ اب انہیں بیرون ملک علاج کے لیے جانے پر آمادہ کرنے کے لیے ان کی منتیں کی جارہی ہیں۔نواز شریف یقیناً جمہوریت کی بحالی کی آدھی جنگ جیت چکے ہیں۔ڈیل کی خبریں دینے والے بھی حیران،لب بستہ اور دل گیر بیٹھ کر ہر روز نواز شریف کی بیماری پر شام غریباں برپا کرتے ہیں۔
آزادی مارچ اور دھرنے کی کرامات بھی بنی گالہ کی جادوٸی طاقتوں کو ناکے چنے چبوا رہی ہیں۔اپوزیشن راہنماٶں کے دھڑا دھڑ پروڈکشن آرڈرز جاری ہو رہے ہیں۔نیب ابھی تک ایک بھی کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔اب تو لگتا ہے انٹر پول بھی ہمارے”سیسیلین مافیا“اور” گارڈ فادروں“ کے زیراثر آچکی ہے کیونکہ اس نے بھی اسحٰق ڈار کے خلاف پاکستانی جیمز بانڈ شہزاد اکبر سے ٹھوس ثبوت مانگے ہیں جو آج کل جادو والی چھڑی اور سرکار سے مایوس ہو کر گوشہ ٕ عافیت میں بیٹھے اللہ اللہ کر رہے ہیں۔رانا ثنا اللہ کی بے گناہی چھت پر چڑھ کر اعلان کر رہی ہے کہ ان کے خلاف انتقامی کاررواٸی ہو رہی ہے۔اللہ کو جان دینے والے کی جان کسی اور کے قبضے میں آ چکی ہے۔شاہد خاقان عباسی،آصف علی زرداری،فریال تالپور اور خورشید شاہ جیسے اپوزیشن راہنماٶں کے ساتھ جیل میں انتقامی اور امتیازی سلوک نے اصل حکمرانوں کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔عوام کی تمام ہمدردیاں اسیران جمہوریت کے ساتھ ہیں۔دوسری طرف وزیر اعظم کے سر پر دھرنے کے علاوہ فارن فنڈنگ کیس کی تلوار لٹک رہی ہے۔وہ جس قدر اپنی گردن بچانے کی کوشش کرتے ہیں پھندا اتنا ہی کسا جارہا ہے۔بہت جلد عدالتی صادق و امین کی صداقت و امانت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹنے والا ہے۔معیشت کی زبوں حالی،بے روزگاری،کساد بازی اور مہنگاٸی نے طرح طرح کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کی نااہلی اور نالاٸقی اظہر من الشمس کر دی ہے۔
بات نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے معاملے سے چلی تھی۔حکمران پارٹی اور اس کے حامیوں کے پاس لے دے کے بیچنے کے لیے یہی چورن بچے گا کہ نواز شریف خفیہ معاہدہ کر کے گٸے ہیں اور اب کبھی واپس نہیں آٸیں گے مگرہم ایسے خوش فہموں کو بتادینا چاہتے ہیں کہ نواز شریف تین چار ماہ کے بعد صحتمند ہو کر نہ صرف واپس لوٹیں گے بلکہ اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اور بھرپور تحریک چلاٸیں گے جس کے نتیجے میں آمرانہ قوتوں کو نااہل حکومت کی بے جا پشت پناہی ترک کرنا پڑےگی اور ملک میں دو ہزار بیس کے وسط یا آخر میں فوج کی نگرانی کے بغیر غیر جانبدار اور شفاف الیکشن منعقد ہوں گے اور نواز شریف ملک کے چوتھی بار وزیر اعظم کا منصب سنبھال کر تعمیر و ترقی کا سفر وہیں سے دوبارہ شروع کریں گے جہاں انہوں نے یہ سفر انیس سو سترہ میں چھوڑا تھا۔نواز شریف کی علاج کے لیے بیرون ملک روانگی پر سب سے مضحکہ خیز اور دلچسپ صورت حال کپتان کے ان جذباتی موالیوں کی ہے جوکسی اپوزیشن لیڈر کے پابند سلاسل ہونے پر کہتے ہیں کہ دیکھی ہمارے کپتان کی گرفت اور جب کسی کی ضمانت ہوجاتی تھی تو کھمبا نوچتے ہوئے کہتے ہیں عدالتیں تو آزاد ہیں۔دیکھتے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم زندگی کے سب سے بڑے یو ٹرن پر کیا بہانہ تراشتے ہیں؟نواز شریف کی روانگی این آر او ہے تو یہ این ار او دیا کس نے دیا ہے اور اگر این آر او نہیں ہے تو اسے کیا کہیں گے؟گویا بے بسی اور بے کسی کا دوسرا نام عمران خان ہے۔نواز شریف اپنی جان پر ضرور کھیلا مگر کتنے چہروں کو بے نقاب کر گیا۔۔
کھیل کوٸی نہ عمر بھر کھیلے
ہم جوکھیلے تو جاں پر کھیلے
نعیم اختر

Facebook Comments