این آر او ۔ جہانگیر اشرف

اگر یہ بات مان لی جائے کہ نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کسی این آر او کے تحت عمل میں آ رہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ این آر او کس نے دیا ہے۔ اگر حکومت نے دیا ہے تو اس کے نعرے اور دعوے ،،کسی کو این آر او نہیں دونگا اور کرپٹ مافیا کو معاف نہیں کرونگا،، کدھر گئے۔ کیا یہ صرف عوام کو بیوقوف اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش تھی مزید یہ کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے فضول کیسیز پر خرچ کیوں کیے گئے جبکہ ن۔لیگ اور پی پی کی لیڈر شپ سے ایک پیسے کی وصولی نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے مشرف یہ کام کر چکا تھا جس کا نتیجہ صفر تھا۔

اگر یہ این آر او اسٹبلیشمنٹ نے دیا ہے تو ہمارا یہ کہنا حق بجانب ہے کہ موجودہ حکمران صرف مہرے ہیں اصل حکمران اسٹبلیشمنٹ ہے۔ ہمارا اسٹبلیشمنٹ کے ساتھ اختلاف اس بات پر ہے کہ پاکستان کے آ ئین کی رو سے پاکستان کے حکمران منتخب کرنا عوام کا کام ہے آپکا کام ملک کے بارڈرز کی حفاظت کرنا ہے۔ آپ کا حلف آپکو سیاست میں دخل دینے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ عدلیہ سے من پسند فیصلے لینا آپکے فرائض میں شامل ہے۔

نوازشریف کی بیماری کافی پیچیدہ اور سنگین ہے اگر نوازشریف کو کچھ ہو جائے تو آنٹی اسٹبلیشمنٹ سیاست کو مزید عروج ملنے کا چانس ہے سندھ کے بعد پنجاب کو بھی ایک بھٹو مل جاتا جو کسی طور پر بھی اسٹبلیشمنٹ کے مفاد میں نہیں تھا۔ نواز شریف کی ضمانت حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کی رضامندی پر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ بیماری کی بنیاد پر ضمانت دینا کورٹ کے دائرے اختیار میں نہیں ہے اس لیے فاضل جج نے حکومتی نمائندے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو عدالت میں طلب کر کے ضمانت دینے کے بارے میں استفسار کیا تھا وزیراعلی کی حامی کے بعد فاضل جج نے ضمانت دی۔ اگر یہ سب کچھ حکومت کی ایماء اور مرضی سے ہوا ہے تو حکومت اور پی ٹی آئی کا این آر او کے ذریعے باہر جانے کا الزام خود کو سیاسی سبکی سے بچانے کی کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

جہانگیر اشرف

Facebook Comments