بھارتی مسلمانوں سے بابری مسجد چھیننے کی تیاریاں مکمل ۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازعہ پر آج شام پانچ بجے تک دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے ۔بدھ کے روز بھارتی سپریم کورٹ کے جج رانجن گوگی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی مسلسل چالیسویں روز سماعت کی واضح آثار نظر آ رہے تھے بھارتی سپریم کورٹ کے جج بھاری مسجد کیس میں اپنا ذہن بنا چکے ہیں ۔

بھارتی میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر ہیڈ لائین چل رہی ہیں کہ آج شام پانچ بجے کی ڈیڈ لائین مقرر کر دی گئی ہے ۔

بھارت ایک سیکولر ریاست کی بجائے ہندو ریاست بن چکا ہے اور تمام بھارتی ادارے آپنے سیکولر آئین کی بجائے ہندو ریاست کے تصورات کے مطابق کام کر رہےہیں ۔

بھارتیوں کا موقف ہے بابری مسجد رام کی جنم بھومی ہے جس پر مغل بادشاہ نے قبضہ کر کے بابری مسجد تعمیر کی تھی ۔بدھ کے روز بھارتی چیف جسٹس نے مسلمانوں کے وکیل کی مزید دلائل کیلئے وقت کی درخواست پر کہا

enough is enough

آج شام بجے تک دلائل مکمل کئے جائیں ۔پانچ ہندوو تنظیموں کو دلائل کیلئے فی پارٹی 45 منٹ جبکہ مسلمانوں کے وکیل کو ایک گھنٹہ دلائل کیلئے دیا ہے ۔

یہاں یہ امر قابل زکر ہے گزشتہ دو سال کے دوران تین سے زیادہ مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں انتہا پسند ہندو گرو قتل کر چکے ہیں کسی بھارتی عدالت یا ادارہ نے اس معاملہ میں مداخلت نہیں کی ۔

بھارتی پارلیمنٹ حملہ کیس میں افضل گرو کو شواہد نہ ہونے کے باوجود اجتماعی بھارتی ضمیر کے نام پر پھانسی دے دی گئی ۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متعلق بھی بھارتی سپریم کورٹ نے کوئی مداخلت کرنے کی بجائے معاملہ انتہا پسند بے جے پی حکومت پر چھوڑ دیا۔

کہا جا رہا ہے بھارتی سپریم کورٹ آج بابری مسجد کے متعلق کوئی عبوری حکم جاری کر سکتی ہے جبکہ حتمی فیصلہ آئیندہ ماہ 17 نومبر کو ممکن ہے جب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ریٹائر ہو جائیں گے ۔

Facebook Comments