بھارت کا جغرافیائی بحران ۔ ڈاکٹر یاسین بیگ

انڈین تھنک ٹینک اور ان کی قیادت اور تاریخ دان جب اپنے جغرافیے پہ نگاہ ڈالتے
ہیں تو یقیناً ایک اضطرابی کیفیت سے گزرتے ھوں گے ،وجہ وہی دنیا کے لیڈروں کی طرح
اپنا جغرافیہ بڑھانا جیسے ماضی میں ہٹلر ،عثمانی ، روس کا کریمیا پر قبضہ یا
عراق کا کویت پر حملہ ۔انڈیا جب نقشے کی مشرقی سمت دیکھتا ھے تو اسے ھمسائے عجیب لگتے
ہیں مگر بے بسی نہیں جاتی ۔ اکھنڈ بھارت کے تصور میں جینے والے یہی خواہش کرتے ہیں، چھوٹا بھوٹان عظیم بھارت کا حصہ بن جائے ۔نیپال کچھ
بنگال کچھ سری لنکا کے تامل سب اس میں شامل ہو جائیں ۔ یہاں اسے کچھ نہیں ملتا۔ہھر شمال کے ہمالیہ سلسلے
اور ھندوکش کے ہہاڑ اس کے اکھنڈ بھارت کے خواب کی تعبیر میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔اس خوف میں کہیں اس کا
اپنا جغرافیہ نہ سکڑ جائے۔وہ چین اور افغانستان میں کبھی دوستی کبھی گڑبڑ کےبیج بوتا ہے
۔

جنوبی حصہ کا سرا بحیرہ عرب ھے یہی وجہ ھے وہ ماضی کے عرب حملہ
اوروں کے خوف سے عرب دنیا سے نبھاہ کرتا ھے اور سفارتی دباو کی چال میں ان کے
حریف ایران سے دوستی اور تجارت۔۔اب اس کے جغرافیے کا خوف مغربی حصے سے شروع
ھوتا ھے۔یہاں پہ سارا فوکس ھے۔یہ تاریخی خوف ھے جو ھندوستان میں ھزاروں سال کا
ھے۔ماں دھرتی یا قوم پرستی اس خوف سے نکلی ھیں۔جین مت بدھ مت کو وہ ھندومت میں
جذب کر گیا۔

ارین بھی مکس ھو گیے۔سکھ ازم اور مسلم بھی کافی حد تک ۔انڈیا میں
کئی بیرونی ھجرت ھوئی سو تقسیم کی ھجرت پہ واجپائی بھی مینار پاکستان پہ مہر
لگا چکا۔خوف ایک تہذھب کا ھے گنگا جمنا اور انڈس ویلی کا۔انڈس ویلی تقسیم ھو
کر دہلی اور لاھور بن جاتے ہیں۔سکھ اور مسلم پنجاب دونوں سائیڈ کی سرحد پہ
ہتھیار لیکر محافظ بنا دے گیے۔اب انڈیا کا خوف مشرق وسطی کے حملہ اور ھییں۔وہ
اریان۔سکندر۔کل کے مغل۔ازبک۔تاجک ترکش غزنی ابدالی اور نادر شاہ کو نہیں بھولے
جو خیبر درے سے ائے یا بلوچستان سے۔اب بلوچ اور ہختون علاقوں جیسے افغانستان
اور بلوچستان میں مداخلت اسی وجہ سے ھے۔گنگا جمنی واسی اہنا اکھنڈ بھارت کا خواب بھی نہیں چھوڑتے اور اسے اپنے جغرافیہ سکڑنے کا خوف بھی تازہ رکھتے ہیں ۔یہ خوف پاکستانی خطے سے ھونے
کا اندیشہ۔اسی خوف نے عالمی طاقتوں کو موقع دیا انہوں نے بھڑکایا اپنے کیمپ
بنائے۔گروپ اور یتھیار اور نفرت کا مواد جن سے یہ گنگا جمنا اور انڈس ویلی نا
واقف تھے۔اسی جغرافیہ کے خوف نے سرحد کے دونوں طرف اپنی پیاری سرحد کو خون میں
رنگا ھوا ھے۔دونوں ممالک کو اچھا ہمسایہ بننا نہیں ایا۔امید ھے ایک دن وہ ایک
دوسرے کا دلی احترام کریں گے۔سرحدوں کو پرامن نگاہ سے دیکھیں گے

Facebook Comments