ترپ کا پتہ ۔ محمد اشفاق

امریکی بڑی منہ پھٹ قوم ہیں۔ ان کے سامنے آپ زیادہ اونچی فلاسفی بھگاریں تو وہ ایک ہی بات پوچھتے ہیں۔ ” میاں اتنے ہی سیانے ہو تو اب تک پھٹے سلیپروں میں سڑکیں ناپتے کیوں پائے جاتے ہو؟”
If you are that smart, why aren’t you rich?

اب ہمارے بہت پیارے دوست جب ہمیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ ابن خلدون، مکیاولی، چانکیہ، آئن سٹائن، نیوٹن، چی گویرا اور منڈیلا سب کی جملہ خوبیوں اور کرامات کا مجموعہ مولانا فضل الرحمان کہلاتا ہے تو جی چاہتا ہے کہ ان سے بھی مولانا کی بابت یہی سوال کیا جائے کہ اگر ” ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی” تو کیا وجہ ہے کہ عرصہ چالیس سال سے یہ چنگاری دھواں ہی دے رہی ہے، شعلہ نہیں بنی؟

آپ اس حالیہ آزادی مارچ اور اس کے متوقع ثمرات و نتائج کا جائزہ لیں تو چنگاری کے شعلہ نہ بن سکنے کی وجوہات آپ پر خود ہی عیاں ہو جاتی ہیں۔ مولانا جتنے بھی عبقری یا جغادری کیوں نہ ہوں اور اپنے پتے اب تک انہوں نے کتنے ہی سنبھال کر کیوں نہ رکھے ہوں، وہ فریق مخالف یعنی جناب عمران خان کے ہاتھ میں موجود ترپ کا پتہ دیکھنے سے قاصر رہے ہیں۔ ایس لئی او پئی جے سمجھداری۔ اب آپ گونگلو بن کر پوچھیں گے کہ وہ ترپ کا پتہ کیا ہے؟

آپ یہ دیکھیں کہ مولانا کے اسلام آباد نزول کے فورا” بعد میڈیا میں دو تین اینکرز سے یہ خبریں چلوائی گئیں کہ صدر عارف علوی نے جناب باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن پر ستمبر ہی میں گھگھی مار دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ گھگھی مارا نوٹیفکیشن آخر ہے کہاں؟ اگر یہ اب تک آفیشل گزٹ آف پاکستان کا حصہ نہیں بنا تو اسے ردی میں دے کر کتنے پکوڑے ہاتھ آ سکتے ہیں؟ ہمارے چیف آف آرمی سٹاف کی موجودہ معیاد ملازمت ختم ہونے میں فقط دو ہفتے باقی ہیں اور ہماری تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ نہ تو نئے چیف کا تقرر کیا گیا ہے نہ ہی پرانے کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے- ایڈوائس کا کیا ہے، کسی بھی وقت واپس ہو سکتی ہے۔ اور لیڈر یوٹرن نہیں لے گا تو عظیم کیسے کہلائے گا؟

یہ ہے خان صاحب کے ہاتھ میں موجود ٹرمپ کارڈ۔

پیغام بڑا سیدھا سادھا اور واضح ہے۔ “اگر میں گیا تو اکیلا نہیں جاؤں گا” اب چیف صاحب ہر خبط عظمت کے مارے شخص کی طرح صدق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کیلئے ان کا جو وژن ہے، ڈاکٹرائن کہہ لیجئے، اس پر کماحقہ عملدرآمد کیلئے جناب کا مزید تین برس اپنے عہدے پر برقرار رہنا نہایت ضروری ہے- اس برقراری کیلئے نوٹیفکیشن مطلوب ہے اور اگر خان صاحب کو یہ خدشہ ہو، اور شاید ہے کہ ہز سروسز آر نو لانگر ریکوائرڈ، تو بھلا وہ یہ نوٹیفکیشن کیوں جاری کریں گے۔ تو توسیع کیلئے نوٹیفکیشن درکار ہے اور نوٹیفکیشن کیلئے یہ یقین دہانی کہ خان صاحب کی تنخواہ بھلے پرانی ہی رہے، ان کی خدمات سے قوم بدستور مستفید ہوتی رہے گی۔

اب یہی وہ اڑچن تھی جس کی بناء پر نواز شریف اور زرداری نے اپنے اپنے پیامبر دوڑائے تھے کہ “اسے کہنا دسمبر آ رہا ہے” دسمبر میں جب چیف کو اپنی ملازمت کا اطمینان ہو گیا ہوتا تو پھر وہ مولانا بمعہ ستر اسی ہزار نفوس قدسیہ کی درخواست پر ہمدردانہ غور فرما سکتے تھے۔ مگر مولانا کو کھجلی زیادہ ستا رہی تھی۔

استاد، استاد ہی ہوتے ہیں۔ اب ان کی اسلام آباد بے وقت تشریف آوری کا نواز شریف جتنا فائدہ اٹھا سکتا تھا، اٹھا لیا۔ زرداری بھی ہتھ ہولا رکھوانے میں کامیاب رہیں گے۔ چیف صاحب کا نوٹیفکیشن مولانا کی وجہ سے لیٹ ہو رہا، یقیناً ان کی مولانا سے محبت میں کافی زیادہ اضافہ ہو گیا ہو گا۔ خان صاحب نے کھلی بانہوں کے ساتھ مولانا کو اسلام آباد میں خوش آمدید کہا اور اب خٹک اور اسد عمر جیسے نمونے ان سے مذاکرات میں لگا رکھے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ مولانا کو انڈرایسٹیمیٹ نہ کیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے خان صاحب کو انڈر ایسٹیمیٹ کیا ہے۔

خالی ہاتھ مولانا کو بھی واپس نہیں لوٹایا جائے گا، کیونکہ مولانا کی سیاست میں افادیت کا اب ادارہ قائل ہو چکا ہے- اس مارچ کا سب سے بڑا فائدہ انہیں یہی ہوا ہے-

اب مولانا کے ہاتھ ایسا کیا پھلترو تھمایا جائے کہ وہ اور ان کے سادہ لوح اور مخلص پیروکار فتح کے شادیانے بجاتے رخصت ہوں، اس پر میری ایک تھیوری ہے مگر وہ پیش کرنے سے پہلے میں حالات و واقعات کا جائزہ لے رہا ہوں۔ حالیہ چند دنوں میں اتنوں کی اتنی تھیوریاں غلط ثابت ہوتی دیکھی ہیں کہ میں بھی سیانا بننے پر مجبور ہو گیا ہوں۔

Facebook Comments