جان ہے تو جہان ہے ۔ خالد پرویز

مریم بی بی آپ کو آپ کے والد میاں نواز شریف کی آزادی اور اپنی آزادی بہت بہت مبارک ہو.اب تو آپ کے والد صاحب خیر سے لندن کی تیاری میں مصروف ہونگے اور وہاں ان کا علاج اپنی مرضی اور منشا کے مطابق ہوگا.
بس “جان ہے تو جہان ہے.”سیاست عوام کے لیئے کی جاتی ہے اور اگر جان ہے تو عوام کے لیئے سیاست میں دوبارہ آنا کوئی مشکل نہیں ہے.


میرے منہ میں خاک اگر میاں صاحب کو کچھ یو جاتا تو وہ عوام اور وہ سیاست کس کام کی.سیاسی عمل میں جان کا بچ جانا یا جان بچانا بیشک میاں صاحب کی ایک بہتر سیاسی حکمت عملی کہلائے گی.
اور ہم عوام خوش ہیں کہ میاں صاحب نے بہت عقلمندی سے کام لیتے ہوئے بغیر ڈیل اور ڈھیل کے صحت کے حوالے باور کرایا ہے کہ “جان ہے تو جہان ہے” اور یہ سیاست تو آنی جانی ہے لیکن ایک مرتبہ جان چلی جائے تو پاکستانی سیاست میں تو بندہ ذالفقار بھٹو ہی بن سکتا ہے. یا موت سے باخبر ہوتے ہوئے بھی اگر بے نظیر بھٹو جان ہے تو جہان ہے پر عمل پیرا ہوئیں اور اپنے لیئے شہادت کا رتبہ ناں پاتیں تو آج اس کا تاریخ میں نام نشان تک نہ ہوتا
لوگوں کا کیا ہے, جتنی زبانیں اتنی باتیں آپ ان باتوں پر کان مت دہریئگا کہ عوام کیا کہتی ہے .


آپ کو سیاست سے الگ کیا گیا ہے یا یہ کہ, آپ نے اور میاں صاحب نے جب مذاحمتی سیاست کی اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تو ہم عوام بہت خوش ہوئے کہ آپ اور میاں صاحب جمہوریت کی وہ جنگ لڑ رہے ہیں جس جمہوریت کو بچانے کے لیئے ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو تک ان کے پورے خاندان کو قتل کردیا گیا.آپ جب ہزاروں لوگوں کے مجمع میں تقریر کرتی تھیں اور کہتی تھیں “روک سکو تو روک لو.”
تو ہمیں لگتا تھا کہ پاکستانی سیاست کے افق پر ایک خاتون سیاسی لیڈرشپ کا جو فقدان ہے وہ طلوع ہو رہی ہے.یا یہ کہ آپ کے آنے سے جمی ہوئی برف پگھل ریی ہے- اور ایک مشرقی خاتوں کا سورج طلوع ہو رہا ہے, لیکن کیا کیا جائے قسمت کی ستم ظریفی کہ میاں صاحب کی بیماری نے آپ کو مشرقی بیٹی بنا دیا اور آپ مجبور ہو گئیں کہ “جان ہے تو جہان ہے.”
اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ آپ متعدد بار گرفتار ہوئیں آپ کے شویر کو گرفتار کر لیا گیا آپ کے والد کو آپ سمیت سزائیں ہوئیں.گرفتاریوں کے بعد سزائیں اور بعد میں سزائیں معطل ہوئیں. اور اب آپ بھی آزاد ہو گئیں تب ہمیں یہ پختہ یقین ہو گیا کہ ہمارے ملک میں انصاف کا بول بالا ہے.اور ہمیں اب یقین کرنا چاہیئے کہ ہماری عدالتیں اور جج اپنے فیصلوں میں نہ فقط آزاد ہیں بلکہ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی میاں صاحب جس حق کے حقدار تھے وہ ملنا چاہیئے. رہا سوال آپ کا تو, اس رعایت کی آپ بھی برابر کی حقدار ہیں کیونکہ سیاسی وراثت کے طور آپ میاں صاحب کی بیٹی جو ٹھہریں.
میں نے پچھلے کسی کالم میں لکھا تھا کہ مریم بی بی آپ بلکل بھی گھبرانا نہیں کیونکہ جس جگہ پر آپ قید و بند کی مشکلات برداشت کر رہی ہیں وہ زمیں بھی اپنی ہے جج وکیل جیلر آپ سے مشقت نہیں کروائینگے اور آپ بلکل محفوظ ہیں.
میاں صاحب بضد تھے کہ وہ ملک سے باہر نہیں جائینگے سندہ اور بلوچستان میں اگر تابوت جاتے ہیں ایک تابوت پنجاب سے گیا تو کیا فرق پڑتا ہے واللہ ہمارے تو کلیجے منہ کو آ گئے.
لیکن بھلا ہو میاں صاحب کی والدہ ماجدہ کا جس نے اپنے بیٹے کو مامتا کا واسطہ دے کر اسے منا لیا کہ جا میرے بیٹے رب تیری حفاظت کرے.اب اس سارے قصے میں اگر چھوٹے بھائی کی کاوشیں نہ ہوتیں تو آپ کے لیئے اور مشکلیں آ سکتی تھیں .
لیکن گھر کا بھیدی ساری لنکا ڈھانے اور آپ کے جانے سے بہت پرسکون ہوگا.اس سارے معاملات میں کردار ادا کرنے میں اس کو انعام میں کیا ملتا ہے وہ باقی ہے فی الحال تو مسلم لیگ نون کے سفید و سیاہ کا مالک وہ اور اس کا بیٹا ہی ہیں ۔
بہرحال آج سے بیس سال پہلے آپ کی خاندانی ملک بدری ایک تکلیف دہ عمل تھا لیکن سول سپرمیسی کی جنگ لڑ کر آپ کا اب کے باہر جانا ایک خوشگوار اور حیرت انگیز عمل ہے جس میں نظریہ ضرورت بھی ہے. جس سے یہ تاثر بھی ضایع ہو جاتا ہے کہ آپ کو زبردستی باہر بھیجا جا ریا ہے اور نہ ہی یہ تاثر ابھرتا ہے کہ آپ نے کوئی ڈیل کی ہے.
اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ مشرف بھی طبعی بنیاد پر حکومت وقت کی اجازت سے باہر علاج کی غرض سے گئے ہیں اور جیسے ہی وہ صحتیاب ہونگے وہ واپس آکر ملک کی عدالتوں میں پیش ہونگے اور اور مقدمات سے بری ہونگے.
ہم عوام ہیں چونکہ ہمیں یہ باور کرایا گیا ہے کہ کے کسی الزام کی زد میں آنے والے یا کوئی بھی سزا یافتہ شخص طبعی بنیاد پر جیل سے آزاد ہو سکتا ہے بلکہ اسے باہر جانے کی بھی اجازت ہے اور اس پر قائم شدہ کیسز ضمانت کے طور ہمارے پاس گروی ہیں آخر وہ بندہ بھاگ کر کہاں جائیگا.
یہاں اب بے نظیر کا ذکر کیا کرنا وہ اگر جان کی پرواہ کرتیں تو کروڑوں دلوں میں اب بھی ناں دہڑکتیں.بھٹو اگر حاکم وقت کے ہاتھوں ناں مارا جاتا تو آج تاریخ میں دونوں کا نام نشان ناں یوتا.
یہ تاریخ بڑی بے رحم ہے مری ہوئی شخصیات کو کروڑوں گھروں میں رہنے والوں کی دلوں میں زندہ کر دیتی ہے اور جبر کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہے.
آپ کی پیشانی پر تاریخ ایک جھومر سجانے کے لیئے آپ کے دروازے پر آئی تھی. لیکن آپ نے کسی مصلحت مفایمت یا کسی مجبوری کے تحت وہ تاریخ کا جھومر سجانے کے بجائے ایک مشرقی بیٹی کی طرح اپنے والد کی جان بچانے کے لیئے بڑی سعادت مندی سے تاریخ سے خود کو الگ کر دیا ہے. بس اب آپ آزاد ہیں اور ہم آپ کی آزادی پر خوش ہیں اور میان نواز شریف کی صحتیابی کے لیئے دعاگو ہیں ..جان ہے تو جہان ہے.

Facebook Comments