جماعت اسلامی کی انتخابی سیاست خاتمے کی طرف ۔لیاقت علی

جماعت اسلامی کا شمار پاکستان کی قدیم سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے۔قیام پاکستان سے سات سال قبل لاہورمیں تشکیل پانے والی یہ جماعت کم وبیش اسی سال کی ہوچکی ہے۔ گذشتہ آٹھ دہائیوں میں اس کے پانچ امیر بن چکے ہیں۔ اپنے قیام کے وقت مولانا مودودی جن کی فکر اور تفہیم اسلام کے ارد گرد یہ جماعت تشکیل پائی تھی اس کے پہلے امیر مقرر ہوئے تھے۔ وہ تین دہائیوں تک اس کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ ان کی منتخب کردہ سیاسی و نظریاتی راہ جماعت کا مقصد حیات ہوا کرتی تھی۔ جماعت اسلامی کے بانی قیام پاکستان کے خلاف تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مسلمانوں کی قومی ریاست ہوگی نہ کہ اسلامی ریاست۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد انھوں نے مسلمانوں کی اس نیشن سٹیٹ کو اسلامی ریاست میں بدلنے کا بیڑا آٹھایا تھا۔ ابتدائی طور پر جماعت اسلامی الیکشن میں حصہ لینے اور امیدوار نامزد کرنے کے عمل کو غیر اسلامی سمجھتی اور اس میں حصہ لینے کو مستحسن خیال نہیں کرتی تھی۔1970 میں ہونے والے الیکشن میں جماعت اسلامی نے پہلی دفعہ مکنل تیاری کے ساتھ بھرپوراندازمیں حصہ لیا تھا۔ جنرل یحیی خان کی حکومت کی تائید و حمایت کی بدولت جماعت اسلامی اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ وہ اس الیکشن میں جیت کر اگر خود سے نہیں تو مخلوط حکومت تو ضرور بنا لے گی۔ لیکن وائے ری قسمت جماعت کو پورے پاکستان سے قومی اسمبلی کی صرف چار نشستیں مل سکی تھیں۔ مشرقی پاکستان سے ایک بھی نشست نہین ملی تھی۔ ایک نشست پنجاب سے دوکراچی سے اور ایک صوبہ سرحد سے جماعت بمشکل جیت سکی تھی۔ جماعت کے لئے یہ الیکشن بہت بڑا دھچکا تھے۔ جماعت اسلامی نے اس الیکشن سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں لیکن شکست نے اس کی تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ 1970 کے الیکشن سے جماعت اسلامی نے سبق سیکھا کہ وہ خود اپنی سیاسی قوت کے بل پر برسر اقتدار نہیں آسکتی اس کے لئے پاکستان کے ریاستی ڈھانچے میں سب سے غالب قوت فوج کی تائید وحمایت ضرور ہے۔ اس کے بعد جماعت نے پھر کبھی مڑ کرنہیں دیکھا۔ فوج نے جہاں اسے بھیجا اس نے آمنا صدقنا کہا اور سر جھکا کر حکم کی تعمیل کی۔ قومی اتحاد ہو یا اسلامی جمہوری اتحاد یا پھر ایم۔ایم۔اے۔ جماعت نے ہر اس اتحاد میں شمولیت اخیتار کی جو عسکری اشرافیہ نے تشکیل دیا۔ جماعت اور فوجی اشرافیہ کے اس اتحاد کی بدولت جماعت حکومتی اور ریاستی اایوانوں میں دخیل ہوئی اور اس کے اثاثوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور آج بطور سیاسی جماعت امیرترین سیاسی جماعت ہے۔ اس کے اثاثوں کی مالیت بلا شبہ اربوں میں ہے ۔ جماعت منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کے لحاط سے امیر تو ہوچکی لیکن سیاسی میدان سے اس کا دانی پانی ختم ہوچکا ہے۔ اب جماعت پاکستان کے کسی بھی صوبے یا شہر سے اپنے طور پر الیکشن نہیں جیت سکتی۔ جیت تو وہ پہلے بھی نہیں سکتی تھی لیکن عسکری اشرافیہ اسے کسی نہ کسی اتحاد کا حصہ بنوادیتی تھی جس کی بدولت اسے دو تین نشتوں کی بھیک مل جاتی تھی لیکن اب ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مستقبل میں جماعت کا پارلیمانی کردار ختم ہوچکا ہے۔ جماعت کے اثاثوں پر قابض اشرافیہ جو پنجابیوں پر مشتمل ہے ان سے مستفید ضرور ہوتی رہے گی لیکن سیاسی میدان میں اب جماعت نان انٹیٹی بن چکی ہے۔

Facebook Comments