جھوٹ موٹ کی کہانی ۔ منصور حسن

ایک جھوٹ موٹ کی کہانی سناتا ہوں ۔۔۔
سن سینتالیس کی بات ہے رمضان کے دن تھے گرداسپور کے لوگ چاند دیکھ کر سو گئے کہ صبح عید ہے ہم نے کہاں جانا ہے ہم تو پاکستان میں بیٹھے ہیں ۔یکایک آدھی رات کا غلغلہ مچ گیا کہ اکالیوں نے حملہ کردیا ہے ہمارا علاقہ انڈیا میں آ گیا ہے گاؤں والے بے سروسامانی میں وہاں سے نکلے راستے میں ہر کنویں پر جوہڑ ۔پانی کے ہر سوتے میں زہر گھلا ہوا تھا ۔۔
ایک عورت اپنی چار پانچ سال کی بچی کی انگلی پکڑے اپنے ڈیڑھ دو سال کے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے اٹھائے پاکستان کی طرف پیدل رواں دواں تھی بھوک پیاس کے مارے براحال ۔۔ڈر خوف قتل عام دیکھتے دیکھتے آدھا خاندان کٹوا کے آخر کار قصور بارڈر پر پہنچ گئے ۔۔۔
رستے میں چھوٹے بچے کے منہ میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں گیا تھا ۔بچہ پیاس کے مارے جاں بہ لب تھا ۔۔بارڈر کے کے قریب ایک گڑھے میں صاف پانی تھا عورت نے کوشش کی کہ مرتے بجے کے منہ میں گڑھے سے دو قطرے پانی ہی ڈال دے کہ پاس کھڑا ایک سکھ فوجی سنگین تانے دندتا ہوا آیا کہ کہنے لگا ۔۔
مائی جے پانی پیایا تاں بچے وچوں سنگین ٹپا دیاں گا ۔۔۔
عورت اٹھی اور چل دی بارڈر پار کرنے سے پہلے ہی بچے کی جان پرواز کر گئی تھی بارڈر پار کرتے ہی سجدہ شکر ادا کرنے کی بجائے عورت اور اس کی بیٹی اکلوتے بیٹے اور بھائی کی نماز جنازہ اور قبر کا انتظام کرنے لگیں ۔۔۔۔
یہ کہانی بالکل جھوٹ ہے اتنی جھوٹ کہ وہ عورت میری نانی اس کی بیٹی میری ماں اور مرنے والا میری ماں کا اکلوتا بھائی تھا ۔۔۔
۔۔۔۔
بارڈر کھولو ضرور کھولو مگر ہمارے خون کا حساب کون دے گا ۔۔۔

Facebook Comments