دو بیوپاریوں کا این آر او ۔ سکندر حسین

یہ آپ بیتی ھے، میری عمر اس وقت شاید 14 یا 15 سال ھوگی، دوستوں کے ساتھ سول ھسپتال منڈی بہاؤالدین میں کھیل رھا تھا، اس وقت ھسپتال کے بیچوں بیچ ایک راستہ ھوا کرتا تھا جو ھسپتال کے بازار کی طرف کھلنے والے گیٹ اور واسو روڈ کے سامنے والے گیٹ کے درمیان ایک پگڈنڈی کی شکل میں موجود تھا، اور یہ راستہ اس وقت شارعِ عام کی طرح استعمال ھوتا تھا،

قصہ کچھ یوں ھوا کہ ھسپتال کے بازار والے گیٹ سے ایک بکروں کا بیوپاری داخل ھوا جس کے ساتھ ایک نحیف سا بکرا تھا، جب وہ ھمارے قریب سے گزرنے لگا تو سامنے سے دوسرا بیوپاری اچانک سامنے آیا اور بکرے کا بھاؤ پوچھا، بکرے کے مالک بیوپاری نے قیمت 1700 روپے بتائی، جب کے خریدنے والا بیوپاری 1500 روپے میں بکرا خریدنا چاھتا تھا، جب دونوں نے اپنے مخصوص انداز میں زوردار بحث شروع کی تو ھم سب دوست بھی ان کی طرف متوجہ ھوگئے اور ان کے قریب جا کر بکرے کاسودا ھوتے ھوئے دیکھنے لگے،

تھوڑی بحث کے بعد بکرے کے مالک نے سودے کو بند گلی میں دھکیل دیا، اس نے خود کو تین چار موٹی موٹی گالیاں دیں، کہ اگر میں بکرے کو 1700 سے کم میں بیچوں تو مجھے ،،فلاں اور فلاں،، سمجھا جائے، ھم ابھی اس جھٹکے سے بھی نہیں نکلے تھے کہ جواب میں بکرا خریدنے والے بیوپاری نے بھی خود کو اس سے بھی زیادہ شدید اثرات رکھنے والی گالیاں دیں کہ اگر میں 1500 روپے سے ایک روپیہ بھی زیادہ دوں تو مجھے، ،، وہ اور وہ،، سمجھا جائے،

اب ھم سب دوست دونوں بیوپاریوں کا منہ باری باری دیکھ رھے تھے کیونکہ اب یہ سودا ھونا ناممکن ھو چکا تھا، لیکن تھوڑی دیر کے بعد ھماری حیرت کی انتہا نہ رھی جب تھوڑی سی مزید بحث کے بعد دونوں کا سودا 1600 روپے میں طے ھوگیا اور بکرا بیچنے والے ھنسی خوشی نوٹ گِن رھا تھا، اور ھم مایوسی کے عالم میں ایک دوسرے کا منہ دیکھ رھے تھے، اور ان دونوں کی ،،وہ اور وہ،، اور،، فلاں اور فلاں،، یاد کرکے عجیب سی کیفیت میں تھے،

(نوٹ) اس واقعے کو مر جاؤں گا لیکن این آر او نہیں دوں گا، یا میں ضمانت کی بھیک نہیں مانکوں گا اور سول سپریمیسی کی جنگ اور ووٹ کی عزت وغیرہ وغیرہ کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، یہ الگ بات ھے کہ یہ واقعہ موجودہ ڈیل اور این آر او سے مکمل مشابہت رکھتا ھے😀😀😀😀😀

Facebook Comments