شاداب خان اپنا اثر کھو رہا ہے ۔ شہزاد فاروق

شاداب خان دو سال پہلے ویسٹ انڈیز کے دورے پر ٹیم میں سلیکٹ ہوا تھا اور پہلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیز کے بیٹسمینوں کو نچا ڈالا تھا- ویسٹ انڈین بیٹسمین لیگ سپن پر ہمیشہ سے کمزور رہے ہیں اور شاداب نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا- چمپئنز ٹرافی فائنل میں یوراج سنگھ کے ایل بی ڈبلیو فیصلے کو ریویو کرتے جو اعتماد شاداب نے دکھایا, وہ اعتماد اگلا کچھ عرصہ شاداب کی بیٹنگ, باؤلنگ اور خاص طور پر فیلڈنگ میں بارہا نظر آیا-

شاداب خان پاکستان سپر لیگ کے کچھ میچز میں کپتانی کرتا نظر آیا اور جو اعتماد اس نے وہاں دکھایا, اس سے لگا کہ شاید پاکستان کا اگلا کپتان شاداب بھی ہو سکتا ہے- لیکن شاداب نے اپنی باؤلنگ میں دو سال میں کچھ نیا کرنے کی کوشش نہیں کی- پچھلے چند سال میں محدود اوورز کی کرکٹ میں لیگ سپنرز کا کردار نہایت اہم رہا ہے- موجودہ دور کے لیگ اسپنرز نہ صرف وکٹیں لے رہے ہیں بلکہ رنز دینے میں بھی بہت کنجوس ہیں- عمران طاہر, عادل رشید, چاہل, زیمپا, سندیپ لاماچین اور سب سے بڑھ کر راشد خان موجودہ دور کے بہترین لیگ سپنرز ہیں جو اپنی لائن لینتھ اور ورائٹی سے بیٹسمینوں کو میسمرائز کر ڈالتے ہیں-

شاداب خان بھی ان میں سے ایک لیکن کسی حد تک مختلف, زیادہ ورائٹی متعارف نہیں کروانے کی وجہ سے شاداب آہستہ آہستہ ایکسپوز ہوتا جا رہا ہے- 2017 اور 2018 کے مقابلے میں شاداب کی 2019 میں کارکردگی شاداب اور ٹیم کے لئے پریشان کن ہے- شاداب جو ون ڈے میں پانچ اور ٹی ٹونٹی میں سات سے کم اکانومی سے گیند کر رہا تھا اس سال کھیلے گئے ون ڈے میچز میں 5.5 سے زیادہ اور ٹی ٹونٹی میں 9.4 کی اکانومی سے باؤلنگ کر رہا ہے-

شاداب خان فہیم اشرف اور حسن علی کے ساتھ ساتھ ٹیم میں آیا تھا اور تینوں بہت اچھے دوست ہیں- حسن علی جو شروع میں اپنی بہترین باؤلنگ سے پاکستان کے سب سے بہتر باؤلر بن گئے تھے. کو اب ٹیم میں جگہ بنانا مشکل ہے- فہیم اشرف جسے مکی آرتھر بہترین آل راؤنڈر سمجھ رہے تھے, اسے ٹیم پر ایک بوجھ سمجھا جا سکتا ہے اور اب شاداب بھی اسی راستے پر ہے- تینوں نوجوان ہیں, بہت آگے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے شدید محنت اور لگن کی ضرورت ہے- کیا شاداب اتنی محنت کر پائے گا اور کیا شاداب, حسن اور فہیم تینوں کرکٹ پر دوسری سرگرمیوں سے زیادہ توجہ دے پائیں گے؟ انہیں سوالوں کے جواب میں شاداب اور باقی دو کا مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہیں-

Facebook Comments