مافیا کا ملک ۔ اظہر سید

ان کے نام نہیں ہیں بلکہ یہ کردار ہیں ۔کبھی اس کردار کا نام جنرل ایوب ہوتا ہے اور مزاحمتی کردار بھلے حسین شہید سہروردی ہوں یا فاطمہ جناح سفاکیت سے راہ میں پڑے پتھر کی طرح ہٹا دئے جاتے ہیں ۔

مافیا جہاں بھی ہو وہ راستے کے پتھروں کو ٹھوکر مار کر ہٹا دیتا ہے ،چاہے ترکی کا فوج کے ہاتھوں پھانسی پانے والا وزیراعظم عدنان میندرس ہو یا پھر جنرل سسی کی قید میں دم توڑ جانے والا محمد مرسی یہ سب کردار ہیں اور تاریخ میں پلٹ پلٹ کر آتے ہیں اور پھر ایک دن ایسا اتا ہے مافیا بتدریج کمزور ہوتا ہوا شکست کھا جاتا ہے چاہے وہ بنگلادیش کی صورت میں ہو یورپ کا سترویں صدی کا پوپ یا موجودہ ترکی کا ناکام فوجی انقلاب ۔

بھٹو ایک کردار تھا اور بینظیر بھٹو بھی ایک کردار ۔آصف علی زرداری بھی ایک کردار ہے اور نواز شریف بھی ایک کردار ۔بھٹو اور بینظیر نے قیمت ادا کر دی ہے نواز شریف اور اصف علی زرداری قیمت ادا کر رہے ہیں ۔

جنرل یحیی ،جنرل ضیا اور جنرل مشرف بھی کردار ہیں اور ان کے خلاف کھڑے ہونے والے بھی کردار ۔ایک مافیا کی سوچ کے علم بردار ہیں دوسروں کے ہاتھوں میں عوام کی طاقت کا پرچم ہے ۔عوامی طاقت صرف اجتماعی فیصلہ سے کامیابی حاصل کرتی ہے اور اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب مافیا خود بھی وقت کے جبر کے ہاتھوں کمزور ہو چکا ہو ۔

مغرب کو جمہوریت کی طرف آتے ،پوپ اور بادشاہ کے چنگل سے نکلنے میں صدیاں گزر گئیں لیکن حتمی کامیابی جمہوریت کو حاصل ہوئی ۔

کس قدر بے بسی ہے مسلح افواج کا سابق کمانڈر انچیف ہے ریاست کا سابق صدر ہے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے گھاٹ اتر رہا ہے ۔کس قدر ظلم ہے مسلح افواج کا حقیقی سربراہ قانون کا کمزور دھاگہ توڑ کر عدالت آتے آتے ہسپتال جا پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے علاج کے بہانے بیرون ملک جا کر ٹھمکے لگاتا نظر آتا ہے ۔مجال ہے کوئی کتے کا پلا اینکر کوئی ڈیل کی خبر چلائے کہ جنرل مشرف دس ارب ڈالر کا این آر او لے کر علاج کے بہانے بیرون ملک گیا ہے ۔

بے بسی سی بے بسی ہے تین مرتبہ کا سابق وزیراعظم ووٹ کو عزت دو کے زعم میں اپنی بیٹی کے ہمراہ سزا یافتہ ہونے کے باوجود جیل میں جانے کیلئے ملک میں واپس آ جاتا ہے ۔ووٹ کو عزت دو کی ضد کی قیمت ادا کرتا ہے ۔سزا یافتہ ہے اس لئے تا عمر پارٹی صدارت کیلئے نا اہل ہےعدالتیں فیصلہ سناتی ہیں ۔ یہ وہ عدالتیں ہیں جو ایک فوجی صدر کو آئین میں تین سال ترمیم کا حق دیتی ہیں اور یہ وہ عدالتیں ہیں جو وزرااعظم کو نا اہل کرتے ہوئے کبھی سیسیلن مافیا ،کبھی گاڈ فادر اور کبھی انگریز شاعروں کی نظموں کے حوالے دیتی ہیں ۔یہ وہ عدالتیں ہیں جو مافیا کے کپڑوں کے اوپر انصاف کا گاون پہن کر جنرل ایوب ،جنرل یحیی ،جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی طرف سے آئین کی عصمت دری کو نظریہ ضرورت کا لباس پہنا دیتی ہیں ۔

نواز شریف بھی بوڑھا ہو گیا ہے اور آصف علی زرداری بتدریج موت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔دونوں مذاحمت کے کردار ہیں اور دونوں قیمت ادا کر رہے ہیں بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ۔

این آر او کی خبریں چلانے والا کوئی پالتو سچ نہیں بولے گا کیونکہ کتے کے یہ پلے بھی کردار ہیں اور ہر دور کے غیر آئینی حکمران کی تعریف کرتے ہیں انہیں بدلے میں راتب ملتا ہے ۔

سیاستدان چور ہیں تو باقی کردار بھی چور ہیں ۔ایک مثال ہے ۔نیب تاجروں کے خلاف کاروائی سے پہلے ایک کمیٹی سے توثیق حاصل کرے گا جسکی سربراہی بھی ایک تاجر کرے گا ۔نیب سرکاری افسران کے خلاف کاروائی سے پہلے ایک کمیٹی سے توثیق حاصل کرے گا اور اہم بات یہ ہے کہ نیب کے دائرہ کار سے عدلیہ اور فوج باہر ہیں پیچھے بچے سیاستدان تو معاشرے کا یہ طبقہ چونکہ مافیا کیلئے ایک چیلینج ہے اس لئے چور بھی ہے اور ڈاکو بھی ۔

جو لوگ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو چور ڈاکو کہتے ہیں سب کی معلومات کا ماخذ نجی چینلز کے اینکرز ہیں جہاں اوریجنل میڈیا مین یا قلم کے تقدس کا خیال رکھنے کی بجائے پالتو بٹھائے گئے ہوں، جو ہر وقت یہی بھونکتے ہیں کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری چور ہیں ۔یہ پالتو عوام کو بتاتے ہیں آصف علی زرداری نے بینظیر کو قتل کروایا کیونکہ بینظیر کے مرنے کا فائدہ زرداری کو ہوا ۔پالتو بتاتے ہیں نواز شریف ڈیل دے کر بیرون ملک علاج کیلئے باہر جا رہا ہے اور اصف علی زرداری اتنے ارب ڈالر ڈیل کیلئے دے رہا ہے ۔

عوام کو اگر خواب میں اللہ تعالی نے خود آکر بتایا ہو کہ سیاستدان چور ہیں تو الگ بات ہے اور اگر کسی پلے نے عوام کی معلومات میں اضافہ کر کے انہیں گمراہ کیا ہے تو اسے میڈیا مینجمنٹ کہتے ہیں اور یہ مافیا کا ایک ہتھکنڈہ ہے اور بس ۔

نواز شریف بیرون ملک چلا جائے گا اور وہاں جا کر مر بھی جائے گا ۔بظاہر مافیا کیلئے یہ بہت خوش کن ہے کہ ایک ضدی اور سزا پا گیا ۔آصف علی زرداری کو بھی راہ سے ہٹا دیا جائے گا ۔

سب چیزوں پر مکمل دسترس ہے اور راہ کے کانٹے بھی نکل گئے ہیں لیکن حالات کے جبر کا کیا کریں گے ۔وقت تو تبدیل ہوتا ہے اور وقت تبدیل ہو رہا ہے ۔معیشت تباہ ہو چکی ہے اور تباہی خوفناک ہے ۔ ووٹ کو عزت دو کی ضد اور آصف علی زرداری کے ڈیل سے انکار نے مافیا کے کرداروں کو کمزور ہی نہیں خوفزدہ بھی کر دیا ہے ۔

یہ ملک بھی قائم رہے گا اور جمہوریت بھی آئے گی ۔یورپ کا پوپ اور بادشاہ وقت کے سامنے نہیں کھڑے ہو سکے ان کی پرکاہ حیثیت بھی نہیں یہ بھی حالات کی تیز آندھی کے سامنے کھڑے نہیں ہو پائیں گے اڑ جائیں گے اور وقت آئے گا جب راج کرے گی خلق خدا۔

Facebook Comments