معافی کب مانگو گے ۔ نذیر ڈھوکی

کان پک گٸے تھے منی لانڈرنگ کی طوطا کہانیاں سن سن کر ۔ میڈیا ان پھلجڑیوں کو بڑے وثوق
سے نشر اور شایع کرتا رہا ،مگر جمعرات کے دن سکہ بند صادق و امین حضرت شبر زیدی نے فتوی جاری کیاکہ ملک سے پیسہ قانونی
طریقے سے باہر گیا ،اب بھی جا رہا ہے اس رقم سے خریدی گٸی جاٸیداد
جاٸز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نظر سے 325 کیس گذرے جن میں کسی
سیاستدان کا نام نہیں ہے . کوٸی کیسے بھول سکتاہے کہ 2014 میں
عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہوکر عوام کو اکساتے تھے کہ بینکوں کے
ذریعے نہیں ہنڈی حوالہ کے ذریعے ملک سے باہر رقوم بھیجو اور منگواٶ ، پھر علیمہ خان سکیڈل منظر عام پر آیا جو شوکت خانم ٹرسٹ اور نمل میاں والی کی عہدیدار ہیں کے پاس ساٹھ ارب کی
رقم کا راز فاش ہوا ۔ الیکشن کمیشن
میں بھی پی ٹی آٸی کی فارن فنڈنگ میں خرد برد کے ثبوت پیش
کیٸے جا چکے ہیں ، ایسے میں اگر
عالم فاضل حضرت شبر زیدی یہ الہام دیں کہ سب ٹھیک ہے کچھ غلط نہیں ۔ بیرون ملک جاٸیداد بھی
جاٸز ہے تو سوال تو بنتا ہے کہ نام نہاد جعلی اکاٶنٹس اور منی لانڈرنگ کی کہانیاں گھڑ کر قوم کو
گمراہ کیوں کیا جاتا رہا ؟ میرے خیال میں زیدی صاحب نے نیازی
اینڈ کمپنی کے ساتھ خود کو خداٸی
فوجدار سمجھنے والوں کے عیب چھپانے کے ساتھ ساتھ ایک اور نیکی بھی کی ہے ۔ انہوں نے یہ کہہ کر اس کاروبار کوٸی سیاستدان شامل نہیں ایک ہی وقت احتساب کے ٹھیکیداروں اور بکاٶ میڈیا کی گالوں پر زور دار تھپڑ بھی دے مارا ہے ۔
شبر زیدی کے اس بیانیہ کے بعد چونکہ ، چنانچے ، در اصل کی ساری
تاویلیں اپنی موت آپ مر چکی ہیں ، اس سارے منظر میں افتخار چودھری اور ثاقب نثار جمہوریت کے کٹہرے میں ننگے نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے جمہوریت کی روح سپریم
کورٹ کی دھلیز پر رسوا ہوتی رہی ۔
کسی کو یاد ہو یا نہ ہو سچ
یہ ہے سندھ اسمبلی ہی پاکستان کی خالق ہے ، اہل سندھ کا شکوہ ہے
کہ پاکستان بنانے والے ہم ،پاکستان بچانے والے ہم ، ہمیں تو نفرت اور
لاشوں کے سوا کچھ نہیں ملا ،
سندھ سوال کرتا ہے شبر زیدی کے
بیانیہ کے بعد جعلی اکاونٹس اور منی لانڈرنگ کے جھوٹ بے نقاب ہو چکے ہیں . انصاف کی بات یہ ہے منی لانڈنگ اور جعلی اکاٶنٹس کی راگنی بند کرکے قوم سے غلط بیانی
پر معافی مانگی جا ٸے .

Facebook Comments