نواز شریف مقتدرہ کیلئے قابل قبول نہیں ۔ تنویر خان

آوازیں.
دیکھیں، نواز کا نام ECL سے ہٹائے جانے کے بعد ایک عمومی تاثر پایا جارہا ہے کہ دونوں فریقین کے مابین کوئی ڈیل یا ڈھیل ہوئی ہے. میرا خیال ہے اس بات میں کوئی صداقت نہیں یہ محض افوائیں اور قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں.
اس سے قبل لکھ چکا ہوں کہ نواز نے ڈیل کرنی ہوتی تو لندن سے واپس آتا نہ ہی اپنی ذوجہ کو بستر علالت پر چھوڑ کر دو سو سے زائد عدالتی پیشیاں بھگتتا اور بیٹی سمیت جیل جاتا.


نواز کا نام ECL سے ہٹائے جانے کی باضابطہ درخواست دی گئی اور تمام تر قانونی تقاضے پورے کیے گئے پھر جا کر ہی نواز کا نام ای سی ایل سے ہٹایا گیا. ملک سے باہر جانے کی اصل وجہ نواز کا شدید بیمار ہونا ہے.ان کا اصولی فیصلہ ہے کہ نواز کا باہر جانا حکومت اور ان کے لیے بہتر رہے گا. اس لیے نواز کے باہر جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی.

میرا خیال ہے کہ علاج کے لیے باہر جانے میں کوئی قباحت نہیں. نواز علاج کے لیے باہر چلا جائے یہی مسلم لیگ کے عام ورکرز بشمول اس کے مداحوں کی خواہش ہے.نواز کا ووٹرز اس کے ساتھ ہے. نواز کے باہر جانے سے مسلم لیگ ن کے ووٹرز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا.

البتہ مسلم لیگ ن کی وہ فرنٹ لائن قیادت جن کی ذمہ داری مولانا کے ساتھ کنٹینر پر رہنے کی لگائی گئی ہے
اگر وہ قیادت آزادی مارچ کے کنٹینر پر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ نظر نہیں آئے گی، تو نواز کے بیانیے پر بہت بڑا اثر پڑے گا اور تحریک کو بھی شدید نقصان پہنچے گا.
لیکن میں نہیں سمجھتا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت بظاہر مولانا کے ساتھ کنٹینر پر نظر نہیں آئے گی. اگر مسلم لیگ ن ایسا کچھ کرے گی تو یہ اپنے اوپر خودکش حملہ کرنے کے مترادف ہو گا.
این آر او نہیں دوں گا، یہ صرف عمران سیریز کے ڈائیلاگ ہیں جو بولے جارہے تھے.
نواز کا نام ای سی ایل سے خارج ہونے کے بعد خان کو سمجھ آجانی چاہیے کہ آپ اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی کو NRO دیں سکیں. این آر او دینے والی ہستیاں کوئی اور ہوتی ہیں.
عوام اور لیگی کارکنان افواہوں پر کان نہ دھریں، بےفکر رہیں علاج کے بعد نواز واپس آئے گا اور سیاسی میدان میں مقابلہ ہوگا.

پاکستان آنے سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سیاسی اعتبار سے مکمل Mature، داناہ، فہم و فراست اور بڑے فیصلے کرنے والی سیاست دان بن چکی تھیں.
وہ تیسری بار اقتدار میں آکر بڑی پیمانے پر تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی تھیں. مگر منصوبہ سازوں کو بھانپ لگ گئی اور پاکستان آنے سے قبل ہی محترمہ بےنظیر شہید کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ تیار ہو چکا تھا. جب محترمہ جلاوطنی کے بعد پاکستان پہنچیں تو منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں نے انھیں ٹھکانے لگا دیا. کیونکہ محترمہ بےنظیر بھٹو شہید مستقبل میں ایک طاقتور عوامی لیڈر کے طور پر سامنے آنے والی تھیں.

اب نواز بھی اپنے ماضی سے کافی سبق سیکھ کر ایک Mature سیاست دان بن چکا. لیکن یہ بلین ڈالرز کا سوال ہے کہ کیا اب بھی نواز ان کو قبول ہے ؟

میرا خیال ہےکہ نواز اپنے بیانیے پر قائم رہتا ہے تو اس کی واپسی طویل جدوجہد اور ایک قانونی جنگ سے مشروط ہے اور اگر اپنے بیانیے پر لچک دیکھاتا ہے تو واپسی ایک معاہدے کی مرہون منت ہے-
لیکن فی الحال وہ کہتے ہیں کہ نواز طاقت کے مراکز کو ہرگز قبول نہیں-

بقلم:- (تنویر خان)

Facebook Comments