نیا ڈومیسٹک سٹرکچر اورکھلاڑیوں کی بےروزگاری۔شہزاد فاروق


پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ میں آج کل نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کھیلا جا رہا ہے- فرسٹ الیون کا ٹورنامنٹ فیصل آباد اور سیکنڈ الیون کا کراچی میں جاری ہے- اس سے قبل قائداعظم ٹرافی کے تین راؤنڈ کھیلے جا چکے ہیں- اس سال پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ گریڈ ون اور گریڈ ٹو میں صرف چھ, چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں, جبکہ پچھلے سال گریڈ ون میں 16 اور گریڈ ٹو میں بیس ٹیموں نے حصہ لیا تھا- پچھلے سال ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی تعداد سات سو کے قریب تھی جو اس بار کم ہو کر 225 کے لگ بھگ رہ گئی ہے- ڈیپارٹمنٹ کرکٹ جو کافی طویل عرصے سے پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک اہم ترین حصہ رہی ہے, اسے اس سال ختم کر دیا گیا ہے-

پاکستانی وزیراعظم عمران خان ہمیشہ سے ڈیپارٹمنٹ کی کرکٹ ٹیموں کے خلاف رہے ہیں- عمران خان کے مطابق اس سے مقابلے کی فضا نہیں بن پاتی اور نہ ہی عوام اس میں دلچسپی لیتے ہیں- عمران خان زیادہ تر ڈومیسٹک کرکٹ انگلینڈ میں کھیلے لیکن انہیں آسٹریلیا کا ڈومیسٹک سیٹ اپ زیادہ پسند رہا جو چھ ٹیموں پر مشتمل ہے- اسی وجہ سے عمران خان نے پچھلے ڈومیسٹک سیزن کے اختتام پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو چھ ٹیموں پر مشتمل سٹرکچر تیار کرنے کا کہا تھا-
عمران خان یہ ہدایات دیتے وقت شاید یہ پہلو نظر انداز کر گئے تھے کہ پاکستان کی تقریباً 22 کروڑ کی آبادی کے مقابلے میں آسٹریلیا کی آبادی صرف ڈھائی کروڑ ہے- انڈیا میں اس وقت 28 اور انگلینڈ میں 18 ٹیمیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہی ہیں اور یہ دونوں ٹیمیں اس وقت ٹیسٹ اور ون ڈے میں ٹاپ رینکنگ کی حامل ہیں- آسٹریلیا کی ٹیم کی گرتی ہوئی کارکردگی کی وجہ سے ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی اور زیادہ ٹیموں کا سوچا جا رہا ہے-

ڈومیسٹک کرکٹ میں ٹیموں کی تعداد میں کمی سے مقابلے کی فضا میں اضافہ کی توقع تو کی جا سکتی ہے لیکن ڈیپارٹمنٹس کو کرکٹ سے بے دخل کر دیئے جانے کے باعث جو سینکڑوں کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف بیروزگار ہوا اس کے بارے میں نہ عمران خان نے سوچا اور نہ ہی کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ نے- کچھ عرصہ قبل جب ہمیشہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا حصہ رہنے والے ہارون رشید کو بورڈ سے ہٹایا گیا تو ایک انٹرویو میں انہوں نے مالی مسائل کا ذکر کیا- 66 سالہ ہارون رشید کے مطابق ان دنوں گھر چلانا مشکل ہو رہا تھا- جب وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ڈیپارٹمنٹس ختم کرنے کی ہدایت کی گئی تو نہ ہی ہارون رشید کو بیروزگار ہونے والے کرکٹرز کا خیال آیا اور نہ ہی 78 سالہ انتخاب عالم کو, جو شاید ہمیشہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا حصہ رہے ہیں-
نئے ڈومیسٹک سیٹ اپ میں کنٹریکٹڈ کھلاڑیوں کو ماہانہ پچاس ہزار روپے تنخواہ ملے گی- جو کھلاڑی مسلسل اچھی کارکردگی دکھائیں اور تمام میچز کھیلیں, انہیں بیس سے پچیس لاکھ روپے سالانہ آمدن کی توقع ہے- لیکن ایسے کتنے کھلاڑی ہوں گے جو سارے میچز کھیل سکیں اور یہ پیسے حاصل کر سکیں؟ آف سیزن میں ملنے والی تنخواہ سے کیا یہ کھلاڑی اپنا گھر چلا پائیں گے جبکہ یہ سننے میں بھی آ رہا ہے کہ اب انہیں انگلینڈ میں کلب کرکٹ کھیلنے میں وہ آزادی حاصل نہیں ہو گی جو پہلے حاصل تھی-

اگر یہ 220 سے 225 کھلاڑی اس آمدن سے گزارہ کر بھی لیں تو ان 450 سے زائد کھلاڑیوں کا کیا بنے گا جو کنٹریکٹ حاصل نہیں کر پائے- بہت سے کھلاڑی جو کرکٹ کھیلنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے, ٹیکسی اور ٹرک چلانے پر مجبور ہیں- ڈیپارٹمنٹ کرکٹ شاید مقابلے کی فضا کے لئے بہت بہتر نہیں تھی لیکن اس کی بدولت بہت سے گھروں میں چولہا جل رہا تھا- پاکستان کرکٹ بورڈ کو نیا ڈومیسٹک سیٹ اپ بنانے سے قبل ان کھلاڑیوں کا سوچنا چاہئے تھا جو اس فیصلے سے بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی زیادہ دیر نہیں گزری- اگر کرکٹ بورڈ کے نمائندے اور کرکٹ میں دلچسپی لینے والے کاروباری لوگ جیسے رانا فواد, ندیم عمر, علی ترین, علی نقوی اور جاوید آفریدی مل بیٹھیں تو ضرور جلد اس کا حل نکالا جا سکتا ہے-

Facebook Comments