پاکستان طلب اور رسد کے بحران کا شکار ہو چکا ہے ۔ قمرمحمود

سرمایہ دارانہ نظام کا اصول ہے۔۔ جو بھی چیز بنائی جاۓ گی ، مارکیٹ میں بیچ کر منافع کمانے کے لیے بنائی جاۓ گی ۔۔اگر ایک چیز کو منافع پر بیچنا ممکن نہ ہو تو وہ نہیں بنائی جاۓ گی۔۔ چاہے اس چیز کی لوگوں کو جتنا مرضی ضرورت ہو۔۔
ہم آپ کو ایک مثال دیتے ہیں ،انڈس موٹرز جو ٹیوٹا گاڑیاں بناتی ہے ، نے مہینے میں پندرہ دن گاڑیوں کی پیداوار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ وجہ ؟؟ گاڑیاں نہیں بک رہیں۔۔۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں گاڑیوں کی ضرورت نہیں رہی؟؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔۔ وجہ یہ ہے کہ جتنی گاڑیاں وہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، اس سے نصف سے بھی کم گاڑیاں مارکیٹ میں منافع پر بک سکتی ہیں۔۔ باقی گاڑیاں خریدنے کے لیے لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ، ان کی معاشی استطاعت ہی نہیں۔۔ چنانچہ پروڈکٹ اگر نہیں بک پاتی تو ضائع کی جا سکتی ہے۔۔ صنعت کی پیداواری صلاحیت کو برباد کیا جا سکتا ہے ، صنعت بند کی جا سکتی ہے مگر اشیاء کی پیداوار اگر ہو گی تو منافع کے لیے ، منافع نہیں تو کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پیداوار ہر گز نہیں کی جا سکتی ۔۔
اگلی مثال سنیے۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق خواراک کی افراط
کے باوجود 50 فیصد پاکستانی بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔۔ وجہ ؟؟ ان بچوں کے ماں باپ اپنے بچوں کے لیے مناسب خوراک نہیں خرید پاتے۔۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی کرشمہ ہے کہ کھانے پینے کے ہوٹلوں کے آگے لوگ بھوکے پڑے ہوتے ہیں ،کپڑے سے لدی ہوئی دکانوں کے آگے لوگ پھٹے پھٹے پرانے چیتھڑوں میں ملبوس گزر رہے ہوتے ہیں ، جوتے کی دوکانوں کے آگے لوگ ننگے پیر یا ٹوٹے ہوۓ جوتے پہنے پھر رہے ہوتے ہیں۔۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسکا حل کیا ہو سکتا ہے ؟؟ اس کا حل سوشلزم کے علاوہ کچھ نہیں ۔۔وجہ ؟؟ کیا سوشلزم ہمارا عقیدہ ہے ؟؟ یا اس کی کوئی ٹھوس سائینٹیفک وجہ ہے ؟؟ سوشلزم میں اشیاء و اجناس کی پیداوار منافع پر فروخت کے لیے نہیں کی جاۓ گی بلکہ پیداوار کا بنیادی مقصد انسانی ضروریات کی تکمیل ہو گا۔۔چنانچہ سوشلزم میں منڈی کیتنگ حدود کو توڑ کر پیداوار کرنے کا موقع ملے گا۔۔ آئیے سوشلسٹ انقلاب کے لیے جدوجہد کو تیز تر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیجیے۔۔

Facebook Comments