پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ۔

پاکستان بڑے زبر دست انداز میں امن کا گہوارہ بن کر سری لنکن ٹیم کی صورت میں عالمی کرکٹ کا نظارہ پیش کر رہا ہے۔سری لنکن ٹیم نے کراچی میں اپنا رنگ جمایا تو چھٹی نہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ نے سٹیڈیم کا رخ کیا۔پاکستان میں 3 ون ڈے انٹرنیشنل اور 3 ٹی 20 میچ کی سیریز کھیلنے کے لئے سری لنکا کی ٹیم کراچی پہنچی تو ان کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا گیا۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے حکام بھی کھلاڑیوں کے ساتھ کراچی پہنچے، کھلاڑیوں کو جہاز سے براہ راست اسٹیٹ لاو نج لے جایا گیا۔پاکستان اور سری لنکن کرکٹ ٹیمیں کراچی میں تین ون ڈے میچز کھیلیں گی جس کے بعد دونوں ٹیموں کے مابین 3 ٹی 20 میچز پر مشتمل سیریز لاہور میں کھیلی جائے گی۔سری لنکن کرکٹ ٹیم نے پہلے کراچی میں تین ون ڈے میچز کھیلے جس کے بعد لاہور میں تین ٹی ٹوینٹی میچز میں ڈاسون شناکا مہمان ٹیم کی قیادت کریں گے۔یاد رہے کہ پاکستان اور مہمان ٹیم سری لنکا کے مابین تین ون ڈے انٹرنیشنل میچ 27 ستمبر، 29 ستمبر اور 2 اکتوپر کو روشنیوں کے شہر کراچی میں جبکہ تین ٹی 20 میچ 5، 7 اور 9 اکتوبر کو زندہ دلان شہر لاہور میں منعقد کئے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) احسان مانی کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد خوش آئند اقدام ہے۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ تیرہ سال بعد ٹیسٹ ٹیم کی پاکستان آمد سے بین الاقوامی کرکٹ کے راستے کھلیں گے۔ سری لنکا کی ٹیم کی آمد سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان محفوظ ملک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سری لنکا کرکٹ سیریز شیڈول کے مطابق ہو رہی ہے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان اور سری لنکن بورڈز میں کتنے گہرے تعلقات ہیں۔چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ کراچی اور لاہور کے سٹیڈیمز میں شائقین بھرپور شرکت کر کے مہمان نوازی کا ثبوت دیں۔ پاکستانی مداحوں میں کرکٹ کا جنون ہے اور انہیں دو ہفتوں میں بہترین مقابلے کی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
بھارت کی طرف سے اب کی بار بھی سری لنکن ٹیم کو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ پاکستان نہ جائیں مگر پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات عوامی سطح پر بھی بھارتی دہشت گردی کے تناظر میں بہت مضبوط ہیں۔ماضی میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سری لنکن ٹیم پر ملک دشمن قوتوں کے سپانسرڈ دہشت گردوں کا لاہور میں حملہ طے شدہ سازش کے تحت کیا گیا تھا۔
سری لنکن کرکٹ ٹیم پر کئے جانے والے حملے سے متعلق سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل(ر) حمید گل کا کہنا تھا کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ”را“ ے لاہور میں پاکستانی کرکٹ پر نہیں پاکستان پر کامیاب وار کیا کیونکہ را موساد اور سی آئی اے نے یہاں اپنا بہت بڑا نیٹ ورک بچھالیا ہے اس سلسلے میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ان کو بہت موقع دیا نیٹ ورک بچھانے اور پھیلانے کا۔گزشتہ دور میں تینوں ایجنسیوں، را ، موساد اور سی آئی اے کا ٹرائیکا یہاں کانچ کی گولیاں نہیں کھیلتے رہے بلکہ اپنا کام کرتے رہے ہیں۔ کرکٹ کا میدان تو چھوٹا ہے دشمن کی خفیہ ایجنسیاں بڑے کینوس پر کھیل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ بھارت سری لنکا کو پاکستان جا کر کھیلنے پر خبردار بھی کرچکا تھا کہ مت جاؤ پاکستان کرکٹ کھیلنے کیلئے ممبئی دہشت گردی ”را“کا اپنا کیا دھرا تھا یا سی آئی اے نے کارروائی کی۔ سری لنکا کے دورہ لاہور سے بہتر را اور اسکے ایجنٹوں کیلئے کوئی اور موقع نہیں تھا۔ جنوبی ایشیا کے لئے اوباما کی پالیسی تشکیل پانے سے پہلے طے شدہ ایجنڈے کے تحت را موساد اور سی آئی اے ایسی کارروائیاں کر رہی تھیں تاکہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ بدنام کیا جا سکے کہ پاکستان غیر محفوظ ہے اس کی ایٹمی صلاحیت اور اثاثے محفوظ نہیں یہ غیر ذمہ دار ریاست ہے اور آئی ایس آئی سمیت اسکی خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیاں غیر ذمہ دار ہیں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر را نے حملہ کر کے پاکستان کے خلاف بنائی جانیوالی چارج شیٹ میں ایک اور اضافہ کر دیا۔ ایک سازش کے تحت پاکستان کو وہ گول پوسٹ بنا دیا گیا ہے جس کے اندر تمام پاکستان دشمن کھلاڑی گول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی پاکستان کے خلاف ملی بھگت ہو چکی ہے اور انکا نشانہ پاکستان ہے۔حالانکہ اصل دہشت گردی کا مرکز بھارت ہے جسکی مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی زندہ حقیقت ہے دوسری طرف بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات سمیت سوات میں رااور اسکے ایجنٹوں کی کارروائیاں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ امیر حیدر ہوتی کھل کر کہہ چکے تھے کہ بدامنی اور تخریب کاری میں باہر کے لوگ ملوث تھے اور سوات امن کے بعد انہیں تنہا کر دیا گیا ہے۔سابق ڈائریکٹر ملٹری انٹیلی جنس اور سابق ایجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا تھا کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر درجن بھر نقاب پوش دہشت گردوں کا حملہ واضح طور پر را کی کارستانی تھی۔ بھارت نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان نہ کرنے کا انتباہ دیا تھا۔ را نے اپنا کام دکھادیا ہے تاکہ دنیا پر واضح کر سکے کہ پاکستان محفوظ ملک نہیں بھارتی سی آئی بی اور اے ٹٰ ایس نے بھارتی فوج کے اندر دہشت گرد فوجی افسران عناصر کو بے نقاب کر دیا تھا جس کے تحت پاکستانیوں کے قاتل کرنل سری کانت پروہت سمیت بہت بڑا نیٹ ورک نے نقاب کر دیا تھا اور باقی ریاستی دہشت گردوں کو ہیمنت کر کرے نے بے نقاب کر نے کی دھمکی دیدی تھی اس کی ڈائری میں کئی راز تھے اس لئے بھارتی ملٹری انٹیلی جنس اور را نے بھارتی عوام میں ہندو دہشت گردی کی فوجی اور سرکاری سرپرستی بے نقاب ہونے کے بعد اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے لا ہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر گوریلا آپریشن کے اندا ز میں انتہائی پیشہ وارانہ طریقے سے کامیاب کارروائی کی اور فوری طور پر دیا گیا مشن پورا کرنے کے بعد غائب ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

Facebook Comments