چین کی بھی صرف مذمت ۔

مقبوضہ کشمیر کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کی عوامی جمہوریہ چین نے شدید مذمت کی ہے ۔چینی دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے بھارت کے اس فیصلہ کا مطلب چین کی خودمختاری کو چیلنج کرنا ہے ۔چین نے واضح کیا ہے لداخ کے کچھ حصے چین کے زیر انتظام ہیں ۔بھارت اسے اقدامات سے گریز کرے ۔

عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سی پیک کے معاملہ پر حب الوطنی کے پہاڑوں نے جو کچھ کیا ہے مذمت سے زیادہ کی امید رکھنا بھی نہیں چاہئے ۔چین کے پاکستان میں معاشی مفادات سی پیک کے ساتھ منسلک تھے ۔حب الوطنی کے پہاڑوں نے نا اہل حکومت کو روپیہ کی قیمت میں پچاس فیصد کمی اور شرح سود چھ فیصد سے بڑھا کر 16 فیصد تک کرنے کی اجازت دی جس سے سی پیک کے تمام منصوبے لاگت میں اضافہ سے فنڈز کی کمی کا شکار ہو گئے۔

چین بھارت تجارت سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں بھارت کو 55 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے ۔ جبکہ پاکستان سے چین کی تجارت کا حجم با مشکل 14 ارب ڈالر ہے جس میں تجارتی خسارہ 10 ارب ڈالر کا ہے ۔جس ملک سے چینی کمپنیاں سالانہ 55 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کماتی ہوں تو چین اس ملک کو زیادہ توجہ دے گا اس ملک کی نسبت جس سے چینی کمپنیاں صرف دس ارب ڈالر کا زرمبادلہ کماتی ہوں ۔

چینیوں سے کشمیر کے معاملہ پر مضبوط حمایت حاصل کرنا ہے تو رابی پیر زادہ کی ویڈیو لیک پالیسی کی بجائے سی پیک کو دوبارہ فعال کرنے کی پالیسی اپنانا ہو گی دوسری صورت میں پاکستان عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جائے گا ۔

Facebook Comments