کرپشن کے الزامات جھوٹے تھے ۔ عامر فاروق

جو سمجھتے ہیں کہ ملک کو گذشتہ دس برس میں لوٹ کر کھا لیا گیا اور اگر خان نہ آتے (یا لائے نہ جاتے) تو اب تک بحیرہ عرب میں ڈوب کر غرق ہو چکا ہوتا ان کی توجہ درکار ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ بیرون ملک پیسہ غیر قانونی طریقے سے نہیں گیا۔ اب بھی جارہا ہے، اس رقم سے خریدی گئی جائیداد جائز ہے

2۔ 10 لاکھ ڈالرز سے زائد کے 325 کیسز میں کسی بھی سیاست دان کا نام شامل نہیں

3- 325 میں سے 135 نے 2018 کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور 56 نے 2019 کی ایمنسٹی سکیم سے استفادہ کیا، ان میں کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص شامل نہیں

مندرجہ بالا 3 باتیں کسی نجومی نے نہیں بتائیں نہ ہی کسی جیالے یا پٹواری کی پوسٹ ہے

یہ باتیں ایف بی آر کے چئرمین شبر زیدی نے کل بروز جمعرات (7 نومبر ) کو اسد عمر کی قیادت میں پارلیمنٹ ہائوس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بتائیں

یعنی وزیر اعظم کی اقتصادی ٹیم کے سرکردہ ارکان میں سے ایک اعلی عہدیدار نے ایک اہم ترین اور اعلی اختیاراتی فورم پر یہ معلومات شیئر کی ہیں

محب وطن پاکستانیوں کو یہ تو پتہ چل گیا ہو گا کہ چند ماہ قبل وزیراعظم نے آپ سے خطاب میں گذشتہ دس برسوں میں قرضوں کی چھان بین کے لئے جو کمیشن بنایا اس نے بتا دیا ہے کہ تمام قرضہ جات انہی مدوں میں گئے جن کے لئے تھے، کوئی کسی سابق حکمران کی جیب میں نہیں گیا۔ یہ بھی پتہ ہو گا کہ اس کمیشن میں محب وطن اداروں کی نمائندگی بھی تھی

اگر یہ پوسٹ قابل ہضم نہ ہو تو سیاست دانوں کو ایک بار پھر سے گالیاں دیں۔ کمزور صرف گالیاں دے سکتے ہیں، کمزوروں کو ہی دے سکتے ہیں کیونکہ طاقتور گالیاں نہیں سنتا منہ پر مارتا ہے۔ اس لئے جنہیں اس ملک کی تقدیر کا مالک ہونا چاہئے وہ اپنے ہی منتخب کیے لوگوں کو سنی سنائی باتوں پر گالیاں بک کر اپنے تئیں چی گویرے بنے ہوتے ہیں

Facebook Comments