چین سے نہیں صومالیہ سے سکھیں ۔ مظہر طفیل

ﮐﺮﺳﭩﺎﺋﯿﻦ ﺳﭩﮉ ﮈﻧﻤﺎﺭﮎ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪ ﭘﺮ ﺳﻮﯾﮉﻥ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﭨﺎﺅﻥ ﮨﮯ ‘ ہمارے ایک ﺻﻨﻌﺖ ﮐﺎﺭ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ 2004 ﺀﻣﯿﮟ یہاں ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﻟﮕﺎ ﺋﯽ ‘ وہ ﺍﺱ ﻗﺼﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺣﺪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺗﮭﺎ ‘ جو ﺣﻼﻝ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮﭘﻦ ﮨﯿﮕﻦ ﺳﮯ ﻻﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ہم 2005 ﺀﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺮﺳﭩﺎﺋﯿﻦ گئے ‘ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ﻗﺼﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﺭہے ‘ ہم ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮍے ﺭہتے ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎتے ‘ ہم ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ…

آو مدینے چلیں ۔کامران طفیل

پہلے گاڑیاں نیلام ہوئیں،بھینسوں کی بولی لگی،پچھلے حکمرانوں کی عیاشی کی داستانیں باتھ ٹب میں لیٹ کر بیچی گئیں،ہر روز اربوں روپے کی کرپشن کی رام لیلا سنائی گئی،جب تاپ ذرا سا کم ہوا تو چھوڑوں گا نہیں کی گردان سنائی گئی لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوا،ہم نے آس لگا لی کہ اب نواز شریف کی جیب سے سونے کے سکے گریں گے تو کہا گیا کہ ببلو ڈبلو نہیں مان رہے،ہم نے آس لگا لی کہ زرداری کا تو پورا خاندان یہاں موجود ہے وہ ضرور مان جائیں…

حکومت کیلئے بڑا امتحان ۔

انسان ظلم زیادتی کرتے وقت بھول جاتاہے وقت پلٹتا بھی ہے اور مکافات عمل کو بھی بھگتنا پڑھتا ہے ۔ نظام فطرت چلانے والا جبار بھی ہے اور قہار بھی ۔وہ سب کھیل دیکھ رہا ہے اور اس کی چال شہ مات ہی دیتی ہے ۔ وہ جب چاہے بازی پلٹ دے ۔ جو تبدیلی لائے تھے جنہوں نے عوام کو مذہب اور کرپشن کے نام پر گمراہ کیا تھا سب اپنی تبدیلی سمیت بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے جو چالیں چلی تھیں سب پٹ گئی ہیں…

جمہوریت کی اخری لڑائی ۔ نذیر ڈھوکی

ملک کے قانون کے کتاب سے انصاف کا لفظ مٹادیا گیا ہے ، جس شخص نے ملک کو آٸین دیا اسے جنرلوں نے ججوں کے ساتھ مل کر عدالتی قتل کی سچائی بنا دیا ۔ دنیا بھر کے قانون دان بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیتے ہیں ۔ پھانسی کی سزا سنانے والا ایک جج بھی مرنے سے پہلے اس عدالتی قتل کو تسلیم کر چکا ہے ۔ آج کے دور میں جس شخص نے آٸین کو فوجی رہزنوں کی برایوں سے پاک کیا راولپنڈی کے جیل میں…

رحیم یار خان،خاتون ٹیچر پر 12 سالہ بچے کےریپ کا مقدمہ

رحیم یار خان کے تھانہ جناح پارک کی سرکاری سکول کی سئینر 55 سالہ خاتون استاد کے گھر چوری کی واردات ہوئی اور نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوئی ۔اس صورتحال کا المناک پہلو یہ ہے کہ تھانہ کی ایس ایچ او نے نامزد ملزمان کی طرف سے خاتون استاد کے خلاف بھی نامزد ملزمان کے بارہ سالہ بچے کے ریپ کا مقدمہ درج کر لیا ۔ خاتون ٹیچر نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں انصاف کی دہائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس…

زمین میں دفن بچی زندہ مل گئی ۔

بھارتی ریاست اتر پر دیش میں ایک ہندو جوڑا اپنی نوزئیدہ مردہ پیدا ہونے والی بیٹی کو دفن کرنے دیگر عزیزوں کے ہمراہ قبرستان پہنچا ۔بچی کیلئے قبر کھودی گئی تو اچانک کسی بچی کے رونے کی آواز آنے لگی ۔ والدین سمجھے کہ انکی بیٹی زندہ ہے ۔ لوگوں نے غور کیا تو آواز کھودی گئی قبر میں سے آ رہی تھی ۔قبر کو مزید کھودا گیا تو مٹی کے برتن میں دو تین روز قبل زندہ دفن کی گئی بچی موجود تھی ۔ اس بچی کو پیدا ہونے…

تمہاری کونسا باپ کی گاڑی ہے ۔ کاشف حسین

دھمال میری فیورٹ کامیڈی فلم ہے۔ اس کے ایک سین میں ارشد وارثی اپنے تین انمول رتنوں کے ساتھ ایک کے باپ کی قیمتی اینٹیک کار چرا کے نکلتے ہیں۔ پولیس کے ڈر سے ایک جگہ ہائی وے چھوڑ کے جنگل میں جا گھستے ہیں۔ تھوڑا آگے جاتے ہیں تو ایک ندی پہ لکڑی کا خستہ پل ملتا ہے جو پہلے ہی آدھا ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ ارشد وارثی کہتا ہے گاڑی جمپ کرانی پڑے گی۔ جس کے باپ کی گاڑی ہوتی ہے وہ چلا کے کہتا ہے بکواس مت…

مولانا فضل الرحمنٰ کی گرفتاری پر اپوزیشن کیا کرے گی ؟

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو تمام اپوزیشن جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں آزادی مارچ کے خلاف حکومت کے کسی بھی کریک ڈاون کے خلاف حکمت عملی وضع کر رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آزادی امرچ روکنے کیلئے مولانا فضل الرحمن ٰ کو گرفتار کیا گیا تو احتجاج کا رخ براہ راست اسٹیبلشمنٹ کی طرف موڑ دیا جائے گا ۔ بتایا جا رہا ہے کہ افرسیاب خٹک کی زمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ پی ٹی ایم کی قیادت…

لیاقت علی خان کا قتل۔ احتشام الحق شامی

ملک کے پہلے وزیرِاعظم اور قائد اعظم محمد علی جناح کے دستِ راست لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو راولپنڈی میں اُس وقت شہید کر دیا گیا تھا جب وہ لیاقت باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیلئے ڈائس پر پہنچے اور اس دوران سید اکبر نامی شخص نے ان پر ریوالور سے گولیاں برسانا شروع کردیں ، وزیرِاعظم کو فوجی ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ شہید قرار دے دیئے گئے ۔ ان کے آخری الفاظ تھے‘‘خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ ۔شہیدِ ملت لیاقت علی…

جنرلوں نے بھٹو کو پھانسی دینا ہی تھی لیکن ؟ لیاقت علی ایڈوکیٹ

بھٹو کا مقدمہ قتل پاکستان کی سیاسی اورعدالتی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ ہے۔ اس مقدمہ نے پاکستان کی سیاسی اورعدالتی تاریخ پر دوررس اثرات مرتب کئے ہیں۔بلاشبہ ججزاورجنرلز بھٹوکو پھانسی دینے میں یکسو اورمتحد تھےاوربھٹو کوانھوں نے پھانسی دیناہی تھے لیکن اس پھانسی کی راہ ہموار کرنے میں بھٹو کی ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی،ان کے بڑے وکیل یحیی بختیار کا غیر پروفیشنل رویہ اورعین درمیان میں مقدمہ کی کاروائی کےبائیکاٹ نے ججوں اور جرنیلوں کے لئے بھٹو کی پھانسی کو آسان بنادیا تھا۔بھٹوکو یقین تھا کہ جنرلز میں…