شہباز شریف کو بھر پور سلوٹ ۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف الیکشن سے قبل اسٹیبلشمنٹ کے چکمے میں آ جاتے تو آج بچے بچے کی زبان پر فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کی بات نہ ہوتی ۔ فول ڈیم والے چھوٹے قد والے چھوٹے جج ثاقب نثار نے بھری عدالت میں شہباز کو مستقبل کا وزیراعظم کہہ دیا کہ” وہ سب کچھ جانتا تھا اور اسی لئے ریٹائرمنٹ کے بعد لندن بھاگ گیا ہے “ شہباز شریف نے بڑے بھائی سے بے وفائی نہیں کی ۔ نواز شریف کے پکے اور سچے کارکن…

مسلم لیگ ن نے بھی جنرل آصف غفور کا بیان مسترد کر دیا ۔

مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے بھی مولانا فضل الرحمن کی طرح ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو مسترد کر دیا ہے ۔احسن اقبال نے کہا ہے کہ جنرل غفور اگر 2014 میں بھی ایسا بیان دیتے تو بہت اچھا ہوتا جب ستمبر کے مہینے میں قادری عمران دھرنے نے چینی صدر کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کر دیا تھا ۔

کشمیری ایک لاکھ سے زیادہ جانیں قربان کر چکے ہیں ۔ ظفر محمود وانی

کشمیریوں نے جہاد کی ابتداء انیس سو اٹھاسی سے کر دی ہے اور اس جہاد میں ایک لاکھ سے زیادہ جانوں کی قربانی دے چکے ہیں جبکہ پاکستان کے فوجی حکمران نے بھارت کے دباو میں آ کر جنگ بندی لائن پر کشمیریوں کو ناجائز طور پر تقسیم کرنے والی آہنی باڑھ لگانے کی اجازت دی ۔ اور بیس کیمپ میں بھی جہاد کشمیر کی عملی حوصلہ شکنی کی گئی ۔ اب تو وزیر اعظم پاکستان جو ان کی ہی پوری حمایت کے حامل ہیں ، نے کھل کر جہاد…

جنرل غفور نے کس حیثیت سے بیان دیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے استفسار کیا ہے کہ انہوں نے کس حیثیت سے بیان دیا ہے فوج تو خود ان کے بیان کے مطابق غیر جانبدار ادارہ ہے ایسا بیان تو سیاستدان کا ہوتا ہے فوج کا نہیں ۔ہفتہ کی شب اپوزیشن جماعتوں کے راہنماوں کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے ادارہ سے تصادم نہیں چاہتے فوج سے اگر ماضی میں کوئی…

ضرورت ختم ہو تو جانا ہوتا ہے ۔ناصر بٹ

پی ٹی آئی کے حکومتی بڑوں کی تو خیر بات چھوڑیں انہیں تو اس مارچ اور دھرنے کا بھی اتنا ھی پتہ ھے جتنا انہیں حکومت نظم و نسق اور انتظام کا ھے مگر حیران کن طور پر آج کے دن تک بڑے بڑے سیاسی تجزیہ نگاروں کی بھی مولانا کی مستقبل کی حکمت عملی سے واقفیت بس اٹکل پچوُ ٹائپ کی لگتی ھے اور تیر تکے سے کام چلا رھے ھیں ابھی تک کسی کے تجزئیے کو سن کے یہ نہیں لگتا کہ اس میں کوئی دس بیس فیصد…

جج کو تعصب سے پاک ہونا چاہئے ۔ لیاقت علی ایڈووکیٹ

ججز کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جب انصاف کی کرسی پر بیٹھتے ہیں تووہ اپنے تمام تعصبات۔ مذبی، لسانی،نسلی قبائلی وغیرہ کو عدالت کے دروازے سے باہر چھوڑ کرآتے ہیں۔وہ عدالت میں بیٹھ کر ان کے سامنے پیش ہونے مقدمات کو قانون کی نظر دیکھتے اور فیصلے کرتے ہیں۔انھیں اس کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان کے سامنے پیش ہونے والے فرد کا شخص کا کیا مذہبی عقیدہ اورسیاسی وابستی ہے۔ وہ کون سی نسل قبیلے اور لسانی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ تو…

کشمیر کو بھول جائیں ۔ گل ساج

کشمیر کو بھول جائیے اب پاکستان کے لئے تاریخ کی دھول بن چکا۔ یہ جو مقبوضہ سے چند آوازیں پاکستان کے لٰئیے بلند ہوتی تھیں وہ انکی مجبوری تھی ۔ کشمیری چاہتے تھے کہ انڈیا کے مقابل کوئی نہ کوئی طاقت انکی پسِ پُشت رہے تاوقتیکہ کہ استصواب کا مرحلہ نہیں آجاتا۔۔ جونہی کشمیریوں کو یہ راٰئے دہی کا موقع ملتا انکی اکثریت نے پاکستان کے بغیر علیحدی و آذاد رہنے کو ترجیح دینی ہے۔ پاکستانیوں کو اس پہ گلہ بھی نہیں ہونا چاہیئے کہ پاکستانی عوام نے کشمیریوں سے…

تمام کابینہ منظر سے غائب ہو گئی ۔احتشام الحق شامی

لاڈلے صاحب، اسپانسرڈ دھرنے کے عادی تھے، جس میں انہیں سب کچھ بنا بنایا دستیاب تھا ،انہیں شائد اندازہ بھی نہیں تھا کہ اصل دھرنہ بھی کوئی بلا ہوتی ہے ،جس سے انہیں اَب پالا پڑا ہے ۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق خان صاحب کے سہولت کاروں نے مولانا سے کچھ دِن کا مزید وقت مانگا ہے جو نہیں دیا گیا ۔ دوسری جانب ما سوائے فردوس عاشق اعوان کے تمام کابینہ مراد سعید سمیت منظر سے غائب ہے، کسی طوفان یا مصیبت کے آنے سے پہلے سمجھ داروں کے…

انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے ،فوج کا فضل الرحمن کو انتباہ

مسلح افواج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے کہا ہے ہم نے کبھی سیاست میں مداخلت نہیں کی منتخب حکومت کی حمایت کرتے ہیں ۔فوج کے ترجمان نے کہا مولانا فضل الرحمن سئینر سیاستدان ہیں وہ بتائیں کس ادارہ کی بات کر رہے ہیں فوج صرف منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے ۔ فوج ایک غیرجانبدارادارہ ہے ، ہماری سپورٹ جمہوری طورپرمنتخب حکومت کیساتھ ہوتی ہے۔ فوج نےالیکشن میں آئینی اورقانونی ذمہ داری پوری کی۔ اپوزیشن اپنےتحفظات متعلقہ اداروں میں لےکرجائیں، سڑکوں پرآ کرالزام تراشی نہیں ہونی چاہیے،ڈی جی آئی…

باجی ڈر گئی ،باجی ڈر گئی

مولانا فضل الرحمنٰ کی طرف سے عمران خان کو خود گرفتار کرنے کی دھمکی کے متعلق وزیراعظم کو بتایا گیا تو انہوں نے مولانا فضل الرحمنٰ کی تقریر خود سننے کی خواہش ظاہر کی ۔ ایک سرکاری افسر نے وزیراعظم کو اپنے موبائل فون پر مولانا فضل الرحمنٰ کی ازادی مارچ میں کی گئی تقریر سنائی تو وزیراعظم مضطرب ہو گئے ۔ اس موقع پر موجود ایک ایک افسر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر پاک نیوز کو بتایا کہ عمران خان تقریر سننے کے بعد خوفزدہ نظر آ…