فارن فنڈنگ کیس’سی پیک مخالف فنڈنگ سامنے آنے والی ہے ۔ احتشام الحق شامی

جب موجودہ حکومت کے سو دن مکمل ہونے پر اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کو واءٹ پیپر جاری کیا گیا تھا جو ان کی سو دن کی ناکامیوں کی داستان پر مشتمل تھاتو میرے دوست جو ایک عرصہ سے سپریم کورٹ کوور کر رہے ہیں اور میرے لیئے انصاف کے ایوانوں کے اندر کی خبروں کے حصول کا مستند اور بہترین زریعہ بھی رہے ہیں ،انہوں نے انہی دنوں میرے سامنے یہ خبر بریک کر دی تھی کہ “عمران خان جس سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کر کے اقتدار…

ہوا پر اعتبار مت کرنا ۔جہانگیر اشرف

ہوا رخ بدل بھی سکتی ہے کہا نہ تھا کہ ہوا پہ اعتبار مت کرنا ہوا رخ بدل بھی سکتی ہے ہوا کے رخ بدلنے سے موسم بدل جاتے ہیں عہد وپیمان سب بھول جاتے ہیں کہا نہ تھا کہ ہوا پہ اعتبار مت کرنا حبس کا موسم ہو تو ہوا دل کو شاداب کرتی ہے جھاڑے کے موسم میں زندگی عذاب کرتی ہے کبھی یہ نرم محسوس ہوتی ہے کبھی یہ گرم محسوس ہوتی ہے کہا نہ تھا کہ ہوا پہ اعتبار مت کرنا ہوا کا مزاج بدلنے سے…

یہ تو ہونا ہی تھا ،فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا فیصلہ۔

پاک نیوز نے گزشتہ روز ہی خبر بریک کر دی تھی کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گا ۔ الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کی راہبر کمیٹی کی درخواست پر پانچ سال سے زیرالتوا فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم جاری کیا ہے اور سکروٹنی کمیٹی کو جلد از جلد اپنا کام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔ فارن فنڈنگ کیس سے خوفزدہ چنتخب نے گزشتہ روز اپنی پارٹی کے چیدہ اراکین کے اجلاس میں انہیں تسلی…

کیا مولانا کا دھرنہ ناکام تھا ؟ قیوم خان بنگش

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ناکام تھا کیونکہ: 1- نواز شریف جیل سے رہا ہو کر ملک سے باہر جا چکا ہے 2- عدلیہ اور حکومت میں غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں 3 فوجی اور حکومت مزید ایک پیج پر نہیں رہے 4- اسٹبلشمنٹ سوچنے پر مجبور ہے کہ اب مزید پی ٹی آئی کی حمایت کیوں کی جائے جب نا اہلی اور معاشی تباہی کے تمام الزامات کا سامنا خود کرنا ہے ۔ 5- نیب چیئرمین نے اعلان کیا ہے کہ اب حکومتی…

پدی اور پدی کا شوربہ ۔ اظہر سید

اوقات اتنی بھی نہیں ریٹائرمنٹ کے بعد ایک محلے کے کونسلر کا الیکشن لڑ سکیں اور نا اہل کرتے ہیں کروڑوں پاکستانیوں کے ووٹ لینے والوں کو ۔ اتراتے ہیں’ زندگی کا حاصل بس اتنا ہے کسی منتخب حکومت کو تنگ کر سکیں وہ بھی آس وقت جب بندوق والوں کی مرضی ہو ۔ جب بندوق والے خود حکومت سنبھال لیں اپنے کالے گاون کے ساتھ میز پر سے چھلانگ لگاتے ہیں اور مارشل لا کا حلف لینے کیلئے لائین میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو دھکے مارتے ہیں…

مکروہ روایات ۔نئیر ہاشمی

کاشف حسین نے جس بات کا نوحہ رقم کیا ہے اس کی شروعات تو 2007 میں اس وقت ہی ہوگئی تهیں جب ایک فوجی آمر جرنل پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس محمد افتخار چوہدری کو برطرف کیا تھا، چیف جسٹس کی برطرفی سے قبل ملک میں آٹھ سال کی طویل آمریت کے خلاف جذبات تو پہلے سے ہی موجود تھے، منصف اعلیٰ کی جبری برطرفی نے جلتی پر تیل کا کام کیا، چنانچہ جب افتخار چوہدری اس برطرفی کے خلاف سڑکوں پر آئے تو پوری سول سوسائٹی…

انقلاب آئے گا ۔ سید محمد اشتیاق

انقلاب مئوخر نہیں ہوا! سول سپریمیسی کے انقلاب کی راہ ہموار ہوئی ہے معروف صحافی، اینکر اور کالم نگار محترمہ عاصمہ شیرازی کا کالم ” دوستو! انقلاب موخر ہوا ” کے عنوان سے معروف بلاگنگ ویب سائٹس پر شائع ہوا ہے- جس میں محترمہ عاصمہ شیرازی نے سابقہ و موجودہ سیاسی حالات کی منظر کشی کی ہے- اور یہ تجزیہ کیا ہے کہ انقلاب مئوخر ہو گیا ہے- ہو سکتا ہے، موجودہ سیاسی منظر نامہ سول سپریمیسی کا خواب دیکھنے والوں کی اکثریت کے لیے مایوس کن ہو- محترمہ عاصمہ…

چیف صاحب یہ کریڈٹ نہیں سیاہ دھبہ ہے ۔ عابد راو

سیاسی پختگی آتے آتے آتی ہے،ہم اکثر اپنے تعصبات اور میڈیا مہم کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں کل سے چیف جسٹس کی بیان پر ڈھولکی بجائی جارہی ہے جبکہ سیاسی بلوغت کا تقاضہ ہے کہ اس بیان کی مذمت کی جائے،کسی بھی سرکاری ملازم کو پبلک فورم پر آکر سیاسی بیان بازی کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے چاہے وہ چیف جسٹس ہو ،چیئرمین نیب ہو یا آرمی چیف ،وزیراعظم ایک سیاسی عہدہ ہے اس کا بیان غلط ہے یا درست یہ سیاسی موضوع ہے چیف کو اس پر…

سرکاری ملازم اور منتخب وزیراعظم ۔کاشف حسین

آج ٹی وی اور سوشل میڈیا پہ چیف جسٹس صاحب کا بہت چرچا رہا۔ کہیں خطاب کرتے ہوئے کھوسہ صاحب نے وزیراعظم کو براہ راست مخاطب کیا اور ان کے ایک بیان کی توہین آمیز انداز میں نفی کی۔ انہوں نے کہا کسی (نواز شریف) کے جانے کا فیصلہ تو وزیراعظم نے خود کیا اس لئے بات کرنے میں احتیاط کریں۔ نون لیگ کے دوستوں نے بھی ان کے اس بیان کو اپنے بیانئے کی حمایت سمجھتے ہوئے دھڑا دھڑ شئیر کیا ایک پہلو لیکن فراموش کیا گیا۔ خان صاحب…

روتا نظر آئے گا ۔ حامد میر

فلم کے اینڈ میں وہ روتا ہوا نظر آئے گا جو کہتا تھا میں تمہیں رلاؤں گا ۔ پاکستان کی سیاست ایکشن اور سسپنس سے بھرپور فلم کی طرح ہم سب کو حیران و پریشان کئے ہوئے ہے۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ اس فلم کا ہیرو کون ہے اور ولن کون۔ کبھی ہیرو کے جذباتی ڈائیلاگ سن کر ہمیں ریاستِ مدینہ یاد آتی ہے لیکن جیسے ہی ہیرو یوٹرن مارتا ہے تو وہ ولن بن جاتا ہے اور پبلک اسے بُرا بھلا کہنے لگتی ہے۔ اس فلم کے اکثر…