محبت یا ڈکیتی اسلام آباد میں نوجوان میجر قتل۔

بتایا جا رہا ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ایک نوجوان لاریب کراچی کمپنی میں قتل کر دیا گیا ہے ۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاریب حسن جو میجر تھا پارک میں ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا کہ دو افراد نے سر میں گولی مار کر قتل کر دیا ۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈکیتی کی واردات کے دوران مذاحمت پر قتل کیا گیا ہے تاہم رات کے وقت لڑکی کے ساتھ پارک میں سنسان گوشے میں بیٹھنا ، قتل کے بعد لڑکی…

درداں دی ماڑی جندری علیل اے ۔ نذیر ڈھوکی

کل جمعرات کے دن پمز اسپتال کے ذراٸع میڈیا کو بتایا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت میں کوٸی بہتری نہیں آٸی سرکاری ڈاکٹروں نے فوری انجیوگرافی کرانے کا مشوره دیا ، سرکاری ڈاکٹروں کے مطابق بلڈ پریشر اور شوگر لیول پر کنٹرول بھی نہیں ہو رہا ، جبکہ ہڈیوں میں درد میں بھی شدت آ رہی ہے ، سابق صدر کی صحت کی تشویشناک ناک صورتحال کے باوجود ان تک ذاتی ڈاکٹروں کو رساٸی نہ دینا اس سے بھی ذیاده تشویشناک بات ہے . غور طلب پہلو…

اصل میں ایکسٹینشن چنتخب کو جنرل باجوہ سے ملی ہے ۔شرمین بخاری

ایک بات سمجھ لیں یہ نواز ہی تھے جنہوں نے جنرلوں کو توسیع دینے سے انکار کیا تھا، جنرلوں کے ماروائے آئین اقدامات پر ان کو گھر بھیج دیا، ہر بار اپنے اقتدار کی قربانی دی لیکن کسی جنرل کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے شکریہ راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع کیلے ہر ممکن حربے استعمال کیئے لیکن کچھ ہاتھ نہیں آیا، منہ ٹیڑا کرکے نکلنا پڑا، آج خبر چلی کہ عمران خان نے باضابطہ طور پر جنرل قمر باجوہ کو 3 سال ایکسٹینشن دے دی ہے درحقیقت…

ہماری قومی شناخت کہاں ہے؟ ڈاکٹر عزیر سرویا

بالی ووڈ کی اوپر تلے کئی فلمیں مَراٹھوں کی جنگی کامیابیوں اور مراٹھا لیڈروں/پیشواؤں کی غیرت مندی و قوم پرستی کی سچی جھوٹی داستانوں پر ریلیز ہو رہی ہیں۔ تُرکوں نے پہلے ارطغرل اور اب عثمان کو کیش کروا کے پوری دنیا میں چلا رکھا ہے۔ مغرب کو بھی معلوم ہے سکندر سے لے کر اپنے صلیبی جنگوں کے ہیروز تک کس کو کیا مقام دینا ہے۔ دنیا کی قومیں واضح طور پر فی الحال ایک تنگ نظر قسم کے نیشنل اسٹ رجحان پر ہیں۔ ایک ہم ہیں جن کو…

چیرمین جائینٹ چیفس اف سٹاف کمیٹی غیر فعال ادارہ ہے ۔محمد اشفاق

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ اور مذکورہ کمیٹی کی تشکیل کا مقصد تینوں مسلح افواج میں بہتر کوارڈینیشن اور تعاون یقینی بنانا تھا۔ اس مقصد کیلئے طے یہ پایا تھا کہ یہ عہدہ باری باری تینوں مسلح افواج کے افسران کے پاس رہے۔ تاہم اب تک ائرفورس اور نیوی سے صرف تین خوش نصیب اس عہدے پر پہنچ پائے ہیں وہ بھی غالباً بھٹو دور میں۔ جنرل زبیر حیات کے عہد میں جے سی ایس سی کا صرف ایک مرتبہ اجلاس منعقد ہوا جبکہ ایسا تین ماہ…

درجن سے زیادہ افسران اور اراکین اسمبلی بیماری کا شکار۔

میڈیا میں صرف نعیم الحق کی بیماری کی خبر آئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ انہیں کینسر ہے ۔حقیقت میں متعدد بڑے لوگ ایک ہی نوعیت کی بیماری کا شکار ہوئے ہیں جو قابل علاج تو ہے لیکن اس بیماری کے دوران مریض کم از کم دو ڈھائی ماہ خواتین سے خوف کھاتا ہے ۔ جو لوگ بیماری کا شکار ہوئے ہیں ان میں دفتر خارجہ کے تین افسران ، پارلیمانی لاجز کے دو افسر چند اراکین قومی اسمبلی بھی شامل ہیں ۔

نواز شریف نے شہ مات دی ہے ۔ نعیم اختر

اگر میں مکافات عمل کے مروجہ اور روایتی تصور پر یقین رکھتا ہوتا تو آج عمران خان اور اس کے سرپرستوں کی درگت بننے پر سب کو مبار ک باد دے رھا ھوتا۔یہ مکافات عمل نہیں بلکہ عمران خان وہ کاٹ رھے ھیں جو وہ باٸیس سال تک بوتے رھے ھیں۔دو ھزار گیارہ تک عمران خان کی سیاسی سمت قدرے درست تھی مگر لاھور میں مینار پاکستان کے عظیم الشان جلسے نے ان کی سیاست کے چاند کو گہنا دیا۔عوامی مساٸل کے حل اور انہیں عدل و انصاف فراہم کرنےکے…

چیف صاحب حقائق مسخ نہ کریں ۔ فاروق احمد

نہیں چیف ساب آپ تاریخی حقائق کو مسخ کر رہے ہیں ۔۔ آپ بھول رہے ہیں کہ آپ نے ایک وزیراعظم کو پھانسی بھی دی تھی ۔ لیکن شاید آپ کو جوتے پڑنے کا احتمال تھا اسی لیے آپ نے شہید بھٹو کے تذکرے سے گریز کیا ۔ اور ہاں ۔ یہ بھی سنتے چلیئے کہ آپ نے آج تک کسی طاقتور کو سزا نہیں دی بلکہ آپ نے ان سب کو ان کی طاقت سلب کیے جانے کے بعد سزا دی ان کے حکم پر جنہوں نے یہ طاقت…

بہشت کے دروازے پر ۔ نور الہدی شاہ

نور الہدی شاہ ایک خودکش بمبار اور ایک ماں کا ماجرا سناتی ہیں. میری اور اس کی ملاقات بہشت کے بند پڑے دروازے پر ہوئی تھی۔ میں اُس سے ذرا دیر پہلے، بڑی لمبی اور کٹھن مسافت کے بعد، پیچیدہ در پیچیدہ راستوں سے گزرتی، اپنے لہولہان پُرزوں کا بوجھ اُٹھائے، تھکن سے چوُر بہشت کے بند پڑے دروازے تک پہنچی تھی اور ٹوٹ چکی سانس کے ساتھ دروازے کے سامنے یوں آ گری تھی، جیسے شکار ہو چکا پرندہ! مجھ سے کچھ ہی دیر بعد وہ بھی لہولہان، ایک…

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا ۔ ہارون ملک

فیس بُکی فرینڈز ! ایک وقت تھا کہ دوست بننے بنانے میں زمانہ لگ جاتا تھا اور شاید اِسی لئے وُہ دوستیاں نہ صِرف پائیدار اور قابلِ بھروسہ ہوتی تھیں بلکہ ایسے دوستوں سے آپ اپنا دِل کا بوجھ بھی ہلکا کر سکتے تھے ۔ ایسے دوست ہم سب کے ہوتے ہیں لیکن محض ایک یا دو ، چلیں چند کہہ لیں لیکن میں نے چند بھی بُہت زیادہ کہہ دئیے ہیں ! بقول فراز تُم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ مِلانے والا…